علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ صادق آباد میں درج مقدمے کا چالان جمع
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
راولپنڈی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 ستمبر ۔2025 )سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ صادق آباد میں درج مقدمے کا چالان جمع کروا دیا گیا ہے مقدمے کی سماعت راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد شاہ نے کی جس کے دوران عدالت نے آئندہ سماعت پر علیمہ خان کو پیش ہونے کا حکم دیا.
(جاری ہے)
مقدمے کی اگلی سماعت پر علیمہ خان کو نقول فراہم کی جائیں گی پراسیکیوشن کی جانب سے چالان میں کہا گیا ہے کہ علیمہ خان مقدمے میں نامزد مرکزی ملزمہ ہیں، ان پر کارکنان کو اکسانے، اشتعال دلانے کے الزامات ہیں پراسیکیوشن کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے 21 نومبر کو قرار دیا تھا کہ انتظامیہ نے اجازت نہ دی تو احتجاج غیر قانونی ہوگا تاہم عدالتی حکم ، دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود لوگوں کو اکسایا گیا کہ وہ مشتعل ہو کر پرتشدد احتجاج کریں. راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے چالان کے بعد ملزمہ کو آئندہ سماعت پر طلبی کے نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت 29ستمبر تک ملتوی کر دی یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے 24 نومبر 2024کو بانی کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا اور 25 نومبر کی شب وہ اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم اگلے روز اسلام آباد میں داخلے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پی ٹی آئی کے حامیوں کی جھڑپ کے نتیجے میں متعدد افراد، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے تھے. احتجاج کے بعد وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کے مختلف تھانوں میں سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق خاتون اول بشریٰ بی بی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور و دیگر پارٹی راہنماﺅں اور سینکڑوں کارکنان کے خلاف دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسلام آباد علیمہ خان
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔