WE News:
2026-07-24@02:59:46 GMT

سپریم کورٹ: سپر ٹیکس کیس کی سماعت کل تک ملتوی

اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT

سپریم کورٹ: سپر ٹیکس کیس کی سماعت کل تک ملتوی

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کل (بدھ) تک ملتوی کر دی۔ ٹیکس دہندہ کمپنیوں کے وکیل احمد جمال سکھیرا کل بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:سپر ٹیکس کیس: پورے ملک سے پیسہ اکٹھا کرکے ایک مخصوص علاقے میں کیوں خرچ کیا جائے، جسٹس جمال مندوخیل

سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل احمد جمال سکھیرا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے دلائل کی روشنی میں فیصلہ دیا جائے تو کیا ہوگا؟، جس پر سکھیرا نے مؤقف اپنایا کہ 215 ارب روپے کا اضافی بوجھ ٹیکس دہندگان پر ڈالنا درست نہیں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آپ تو ٹیکس ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر ٹیکس ریکوری ہو جاتی تو یہ اضافی ٹیکس لگانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔

وکیل احمد جمال سکھیرا نے مؤقف اختیار کیا کہ 15 کروڑ روپے سے کم آمدنی پر سپر ٹیکس لگانا غیر قانونی ہے۔ میری استدعا ہے کہ جس ٹیکس سلیب میں کوئی آتا ہے اسی کے مطابق ٹیکس لگایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مطابق 15 کروڑ سے کم آمدنی پر سپر ٹیکس نہیں لگ سکتا، جبکہ اس سے زائد آمدنی پر لگایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ: ایف بی آر کے وکیل کی استدعا پر سپر ٹیکس کیس کی سماعت 5 مئی تک ملتوی

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اس موقع پر مؤقف دیا کہ سکھیرا صاحب دراصل یہ چاہ رہے ہیں کہ تنخواہ دار طبقہ بھی وہی ٹیکس دے جو یہ کمپنیاں دے رہی ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ موجودہ مؤقف کے مطابق تو تنخواہ دار طبقہ بھی سپر ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔

عدالت نے مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایڈیشنل اٹارنی جنرل جسٹس جمال مندوخیل سپر ٹیکس سپریمکورٹ وکیل احمد جمال سکھیرا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایڈیشنل اٹارنی جنرل جسٹس جمال مندوخیل سپر ٹیکس سپریمکورٹ جسٹس جمال مندوخیل سپر ٹیکس تک ملتوی

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی