اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے وزیراعظم آفس کو دی گئی ایک بریفنگ میں اعتراف کیا ہے کہ موجودہ مالی سال میں 3.6 کھرب روپے کے سیلز ٹیکس خسارے کو پورا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر  کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ ریٹیل سیکٹر کی غیر رسمی نوعیت اور اس میں موجود شدید تقسیم ہے، جس کی وجہ سے اس شعبے کو مؤثر طریقے سے مانیٹر کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

بریفنگ کے مطابق صرف ریٹیل سیکٹر میں سیلز ٹیکس کا خسارہ 310 ارب روپے ہے، جو مجموعی خسارے کا تقریباً دسواں حصہ بنتا ہے۔ ایف بی آر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ مالی سال میں 874 ارب روپے کی وصولی محض نفاذی اقدامات کے ذریعے ممکن ہوسکی تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال میں ایف بی آر نے سیلز ٹیکس کی مد میں 3.

9 کھرب روپے اکٹھے کیے، جبکہ 3.6 کھرب روپے کا خلا باقی رہ گیا۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس خسارہ صرف اس صورت میں پورا ہو سکتا ہے جب ریٹیل سطح پر مکمل مانیٹرنگ کی جائے، لیکن موجودہ حالات میں یہ کام مشکل ہے۔

خسارے کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے ایف بی آر نے ظاہر کیا کہ سب سے زیادہ ٹیکس خسارہ ٹیکسٹائل سیکٹر میں 814 ارب روپے ہے۔ اس کے بعد پٹرولیم اور خوراک کے شعبوں میں 384 ارب، کیمیکل و فرٹیلائزر میں 326 ارب، آئرن و اسٹیل میں 200 ارب، الیکٹرانکس میں 193 ارب اور مشروبات میں 101 ارب روپے کا خسارہ ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے یہ بھی بتایا کہ 12,805 ٹیکس دہندگان نے نظام کو لائسنس یافتہ انٹیگریٹر کے ساتھ مربوط کیا ہے، جن کی کل سیلز ٹرن اوور 33.3 کھرب روپے ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ اب مینوفیکچرنگ سطح پر ٹیکس نفاذ پر توجہ مرکوز کرے گا، کیونکہ یہاں ٹیکس وصولی زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔

دوسری جانب ایف بی آر کے اعلیٰ افسر نے بتایا کہ فیصل آباد میں جیولرز شاپس اور فرنیچر شورومز کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں، جس میں ضلعی مجسٹریٹس اور پولیس کی مدد سے 100 سے زائد دکانداروں کے خلاف اقدامات کیے گئے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: ایف بی آر نے کھرب روپے سیلز ٹیکس کے مطابق ارب روپے

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف