گنی میں نئے آئین کے لیے ریفرنڈم، فوجی حکومت سے سول اقتدار کی منتقلی کی امید
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
مغربی افریقی ملک گنی میں برسوں بعد ریفرنڈم منعقد ہوا ہے، جس میں عوام نئے آئین پر ووٹ دے رہے ہیں۔ اس ریفرنڈم کو ملک کو فوجی حکومت سے سول حکومت کی طرف منتقل کرنے کا ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
نئے آئین کے مطابق صدارتی مدت 5 سے بڑھا کر 7 سال کر دی جائے گی اور صدر کو ایک تہائی سینیٹرز نامزد کرنے کا اختیار ہوگا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ریفرنڈم فوجی سربراہ مامادی ڈمبویا کو آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا راستہ فراہم کر سکتا ہے۔
ملک بھر میں تقریباً 67 لاکھ ووٹرز ووٹ ڈال رہے ہیں جبکہ 40 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار پولنگ اسٹیشنوں پر تعینات کیے گئے ہیں۔ دارالحکومت کوناکری میں پولنگ کے دوران سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں کے دو بڑے رہنما، سیلو ڈیلین ڈائیلو اور معزول صدر الفا کونڈے، ریفرنڈم کا بائیکاٹ کر چکے ہیں اور ان کی جماعتوں کی رجسٹریشن بھی فی الحال معطل ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت پر سیاسی مخالفین کو دبانے کا الزام لگایا ہے، تاہم حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
ریفرنڈم کے نتائج 2 سے 3 دن میں سامنے آنے کی توقع ہے، اور اگر آئین منظور ہو گیا تو دسمبر میں طے شدہ صدارتی انتخاب کے لیے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔