بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینے والوں نے ایک کروڑ خاندانوں کی توہین کی: پی پی سینیٹر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
---فائل فوٹو
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر روبینہ خالد کا کہنا ہے کہ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینے والے سیاسی رہنما نے ایک کروڑ خاندانوں کی توہین کی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے روبینہ خالد کا کہنا تھا کہ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں، 2022ء کے سیلاب میں بی آئی ایس پی نے 70 ارب روپے کی ہنگامی امداد دی، 28 لاکھ متاثرہ خاندانوں کو فی کس 25 ہزار روپے نقد رقم دی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کا مطالبہ ہے کہ سیلاب زدگان کی امداد بی آئی ایس پی کے ذریعے کی جائے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آیا، حکومتِ پنجاب اپنے وسائل سے سیلاب متاثرین کی مدد کر رہی ہے، ہمیں بیرونی امداد کا انتظار نہیں۔
روبینہ خالد نے مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ کہنے والے سیاسی رہنما اپنے بیان پر معافی مانگیں اور سیلاب کے معاملے پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے اجتناب کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام
پڑھیں:
نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیے جانے کی توقع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت پنجاب نے نوجوانوں کو آئندہ مالی سال میں الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال میں 50 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کہا کہ ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت دی جائے گی، رجسٹریشن سمیت دیگر مراعات بھی دی جائیں گی۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیئے جانے کی توقع ہے۔