ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور انکے شوہر ہادی علی چھٹہ کو راہداری ضمانت مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
وکیل درخواست گزار عطاء اللہ کنڈی ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزار اسلام آباد میں وکیل ہے، سماجی کارکن ہے، درخواست گزارہ کے خلاف اسلام آباد میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور ہائی کورٹ نے ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ ایڈووکیٹ کو 9 اکتوبر تک راہداری ضمانت دے دی۔ ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ہادی علی چھٹہ ایڈووکیٹ کی راہداری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی۔ ایمان مزاری کے وکلا عطاء اللہ کنڈی، جہانزیب محسود، طارق افغان، اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناء اللہ عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو 9 اکتوبر تک راہداری ضمانت دے دی۔ عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو 9 اکتوبر تک متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایات کی۔ وکیل درخواست گزار عطاء اللہ کنڈی ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزار اسلام آباد میں وکیل ہے، سماجی کارکن ہے، درخواست گزارہ کے خلاف اسلام آباد میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے استفسار کیا کہ یہ دونوں وکیل ہیں؟، وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ جی دونوں درخواست گزار وکیل ہیں اور عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے پوچھا کہ آپ پہلی بار پشاور آئی ہیں؟ ایمان مزاری نے جواب دیا کہ جی میں پہلی بار پشاور ہائیکورٹ میں آئی ہوں۔ چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا کہ چلو آپ ایف آئی آر کے بہانے پشاور تو آئیں، آپ لوگ تو ویسے بھی خیبرپختونخوا نہیں آتے۔ وکیل ایمان مزاری عطاء اللہ کنڈی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایمان مزاری خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مظلوم لوگوں کی آواز ہے۔ عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو 9 اکتوبر تک راہداری ضمانت دے دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ایمان مزاری عطاء اللہ کنڈی راہداری ضمانت درخواست گزار
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔