متنازعہ ٹویٹ: ایمان مزاری، شوہر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت ) مقامی عدالت نے ریاست اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف متنازع ٹویٹ کیس میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے۔ میڈیا کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے 24 ستمبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ وارنٹ جاری ہونے کے بعد ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کے وکلاء کی جانب سے وارنٹ منسوخی کی درخواست بھی دائر کی گئی۔ تاہم عدالت نے فی الفور وارنٹ منسوخی کی استدعا مسترد کر دی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔