ریلوے ٹریک پر دھماکہ سے جعفر ایکسپریس کی بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، متعدد مسافر زخمی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
لیویز ذرائع کے مطابق دھماکے سے ٹرین کی 6 بوگیاں ٹریک سے اتر گئیں، دھماکے سے متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، ریسکیو ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنا شروع کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس پر سپیزینڈ کے قریب دھماکہ ہو گیا۔ لیویز ذرائع کے مطابق دھماکے سے ٹرین کی 6 بوگیاں ٹریک سے اتر گئیں، دھماکے سے متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، ریسکیو ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنا شروع کر دیا۔
ترجمان ریلوے کے مطابق دھماکے سے ٹرین کی 6 بوگیاں ٹریک سے اتر گئیں، مسافر ایمبولینسز اور اپنی مدد آپ کے تحت ٹرین سے اپنے گھروں کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔ ریلوے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان ریلویز کی جانب سے ریسکیو آپریشن شروع کیا جا رہا ہے، ریسکیو ٹرک، کرین اور ریلیف ٹرین روانہ کی جا رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سے اتر گئیں دھماکے سے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔