مستونگ میں ریلوے ٹریک کے قریب دھماکہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
عیسیٰ ترین :کوئٹہ کے ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں ریلوے ٹریک کے قریب دھماکہ ہوا۔
پولیس کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز اور پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔
بم ڈسپوزل سکواڈ کو بھی طلب کر لیا گیا تاکہ شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔
ریلوے حکام کے مطابق دھماکے سے ریلوے ٹریک محفوظ رہا۔
پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کا "اراضی معاون" منصوبہ، شہری سہولت اور روزگار کی نئی راہیں
سکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے کے باعث پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس بھی تاحال روانہ نہ ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت جاننے اور اس کے پس پردہ عناصر کو بے نقاب کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
یاد رہے کہ بلوچستان ایک بار پھر دہشت گردوں کے نشانے پر ہے، صرف ستمبر کے مہینے میں دہشت گردی کے 9 واقعات پیش آئے جن میں مجموعی طور پر 32 افراد جاں بحق اور 47 زخمی ہوئے۔
سپر طوفان’’ راگاسا‘‘ کے پیش نظر چین کے 10 شہروں میں سکول، کاروبار بند،پروازیں معطل
یہ واقعات صوبے کے مختلف شہروں اور اضلاع میں رونما ہوئے جن میں سیاسی جلسے، سکیورٹی فورسز اور عام شہری براہِ راست نشانہ بنے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔