جماعت اسلامی ہمیں کام کرنے نہیں دیتی، مرتضیٰ وہاب کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں پریس کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم سوچیں اور فیصلہ کریں کہ آیا ہم سیاسی و انتظامی معاملات آپس میں حل کریں یا اس کے لیے عدالت جانا ہے،پہلے ہی عدالتوں میں بہت مقدمات التوا کا شکار ہیں،ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ مخالفین رکاوٹیں ڈالیں یا مقدمے کریں مگر کراچی میں ترقی اور بہتری کے عمل کو روکا نہیں جاسکتاکیونکہ عوامی خدمت ہی اصل سیاست ہے، ایم یوسی ٹی کے معاملے پر مخالفین عدالت گئے اسٹے آرڈر لے لیا تھا،سندھ ہائیکورٹ نے اسٹے کو ہٹایا اور اعتراف کیا کونسل کا اختیار ہے ٹیکس وصول کرے، ایم یو سی ٹی ٹیکس کی وصولی سے ہمارے معاملات اچھے ہوئے،قانونی اعتبار سے ہائیکورٹ اجازت دے چکا ہے، سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو ختم نہیں کیامگرجماعت اسلامی کے سیف الدین صاحب نے ایک مرتبہ پھر پارلیمانی سیاست کے بجائے اس اعتراض کی بنیاد پر ایم یو سی ٹی کے معاملے کو عدالت میں لے جانے کا فیصلہ کیا کہ ہم نے ٹیکس بڑھانے میں اجازت نہیں لی جبکہ بجٹ اجلاس میں ان کے سامنے ٹیکس بڑھانے کی منظوری لی گئی تھی، ہم نے مارچ اپریل میں ہی یہ فیصلہ کرلیا تھا تاہم اپوزیشن کی درخواست پر اس اضافے کو بجٹ تک مؤخر کیے رکھااوراب یہ کے ایم سی کے رواں مالی سال کے بجٹ کا حصہ بن چکا ہے۔اس معاملے پر ہم تین نومبر کو کیس کی پیروی کے لیے جائیں گے۔میں لوگوں کو حقائق بتانا چاہتا ہوں، ہم نے 27 ارب جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤن کو دیے ،14 ارب روپے ٹاؤن نے روڈ کٹنگ کی مد میں لیے مگرایک سال ہوگیا ان پیسوں سے سڑکوں کی مرمت شروع نہ ہو سکی،سندھ حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کو 5.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔