چینی کی درآمد کیلئے ڈیوٹی اور ٹیکس چھوٹ میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے چینی کی درآمد کے لیے ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں چھوٹ کی مدت میں دو ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب 30 نومبر 2025 تک بغیر ڈیوٹی اور ٹیکس کے چینی درآمد کی جاسکے گی۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے چینی کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکس کی چھوٹ اور رعایت کی تاریخ میں 30 نومبر 2025تک توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ چینی کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکس سے چھوٹ کے لیے جولائی 2025 میں جاری کردہ نوٹیفکیشن میں ترامیم کردی گئی ہیں۔
ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ پہلے ٹیکس استثنیٰ سے فائدہ اٹھانے کے لیے چینی کی درآمد کی آخری تاریخ 30 ستمبر 2025 مقرر کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اس کے بعد درآمد کی گئی چینی پر مذکورہ استثنیٰ لاگو نہیں ہوگا مگر اس تاریخ میں توسیع کی گئی ہے اور اس کے تحت اب 30 نومبر تک بغیر ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے چینی درآمد کی جاسکے گی۔
ایف بی آر حکام نے بتایا کہ اس سے پہلے جاری کردہ نوٹیفکیشنز کے تحت ملک میں چینی کی طلب و رسد میں کمی پوری کرنے کے لیے 5 لاکھ ٹن چینی کی درآمد پر انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی شرح کم کی گئی ہے جبکہ کسٹمز ڈیوٹی اور تین ود ویلیو ایڈڈ ٹیکس سے چھوٹ دی گئی تھی جس کے لیے تین نوٹیفکیشنز جاری کردیے گئے تھے۔
مذکورہ نوٹیفکیشنز میں بتایا گیا تھا کہ سفید کرسٹل چینی کی درآمد پر سیلز ٹیکس کی شرح 18فیصد سے کم کرکے 0.
دوسرے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ چینی کی درآمد پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 0.25 فیصد مقرر کی گئی ہے اور تیسرے نوٹیفکیشن کے مطابق 5 لاکھ ٹن چینی کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی کی بھی مکمل چھوٹ ہوگی۔
ایف بی آر کے مطابق ان نوٹیفکیشنز میں مزید بتایا گیا تھا کہ چینی درآمد پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی چھوٹ اور سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی رعایات حاصل کرنے کے لیے چینی 30 ستمبر 2025 تک درآمد کرنا ہوگی مگر اب جو نوٹیفکیشن جاری کیے گئے ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ 30 نومبر 2025 تک رعایتی ٹیکس اور بغیر ڈیوٹی کے چینی درآمد کی جاسکے گی اور شرائط پہلے والی ہی برقرار رہیں گی۔
ان شرائط کے تحت یہ کہا گیا ہے کہ وزارت تجارت یہ درآمد یا تو ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے ذریعے کرے گی یا مخصوص شرائط، حدود اور کوٹہ الاٹمنٹ کے تحت نجی شعبے کو اجازت دی جائے گی، یہ اقدامات فوری اور آئندہ ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے مقررہ مدت کے دوران کیے جائیں گے جبکہ وزارت تجارت بین الاقوامی انسپیکشن فرم کے ذریعے اس درآمدی چینی کے معیار کو یقینی بنائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چینی کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکس چینی درآمد گیا تھا کہ بتایا گیا ایف بی آر درآمد کی ٹیکس کی کہ چینی گئی ہے کی گئی کے تحت کے لیے
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔