پاکستان اور چین کے درمیان باہمی تجارت 2ماہ سے بند ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خارجہ امور کے اجلاس میں پاکستان اور چین کے درمیان باہمی تجارت 2 ماہ سے بند ہونے کا انکشاف ہواہے۔ڈان نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس چیئرمین حنا ربانی کھر کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔دوران اجلاس سربراہ نیشنل لاجسٹک سیل ( این ایل سی ) نے بتایا کہ پاکستان اور چین کے درمیان باہمی تجارت 2 ماہ سے بند ہے، گلگت بلتستان کے مقامی تاجروں کی ہڑتال پاک چین باہمی تجارت میں رکاوٹ ہے۔سربراہ این ایل سی نے کہا کہ تاجروں کی ہڑتال کے باعث این ایل سی کے 64 ٹرک اپنی جگہ پر کھڑے ہیں۔دوران اجلاس سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ روابط پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ باہمی تجارت 2.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان اور چین کے باہمی تجارت ایل سی کہا کہ ماہ سے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔