سندھ ہائی کورٹ، کنٹریکٹ پر بھرتی ہیڈ ماسٹرز کو موجودہ عہدے پر برقرار رکھنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے محکمہ تعلیم میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہیڈ ماسٹرز کو موجودہ عہدے پر برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔محکمہ تعلیم میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہیڈ ماسٹرز کو مستقل کرنے کے کیس کی سماعت سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی۔عدالت نے 3 ماہ میں درخواست گزاروں کے کیسز سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) کو بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایس پی ایس سی درخواست گزاروں کی قابلیت اور قوانین کے مطابق جائزہ لے۔دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا ہے کہ ایس پی ایس سی نے درخواست گزاروں کے کیسز لینے سے انکار کیا ہے۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا ہے کہ 937 میں سے 866 امیدواروں کی سروس فائلز ایس پی ایس سی کو بھیجی ہیں، درخواست گزار ازخود عہدہ یا نوکری چھوڑ چکے ہیں۔سندھ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ سروس قوانین میں کنٹریکٹ ملازمت کی قانونی حیثیت نہیں ہے، کنٹریکٹ پر ملازمین کی بھرتی پر اعلیٰ عدالتوں نے بھی تنقید کی ہے، گریڈ ایک سے 15 کے ملازمین کی بھرتی کے لیے شفاف مسابقتی نظام ہونا چاہیے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ صوبے میں گریڈ 17 کے ہیڈ ماسٹرز کی بھرتیاں کنٹریکٹ پر ہونا حیران کن ہے، ہیڈ ماسٹرز کی پوسٹ پر بھرتیاں مسابقتی امتحان یا ترقی کی بنیاد پر ہونی چاہئیں تھیں، ایس پی ایس سی کی موجودگی میں کنٹریکٹ پر بھرتیاں ناقابل فہم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کنٹریکٹ پر بھرتی سندھ ہائی کورٹ ایس پی ایس سی میں کنٹریکٹ ہیڈ ماسٹرز
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔