ملائیشیا کی فضاؤں میں پشاور کی خوشبو
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
جب میں ملائیشیا کے دارالحکومت کوالا لمپور کی ایک مصروف اور رنگین مارکیٹ جی ایم پلازہ میں داخل ہوئی تو ایک ایسی خوشبو نے میرا استقبال کیا جو مجھے اپنی اپنی سی لگی۔ میں اس خوشبو کے تعاقب میں ایک چھوٹی سی دکان تک پہنچ گئی جو جی ایم پلازہ کی تیسری منزل پر تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ملائیشیا کی ریاست ترنگانو میں جمعہ کی نماز نہ پڑھنے پر 2 سال قید کی سزا کا قانون منظور
جی ایم پلازہ بظاہر کسی عام پاکستانی پلازے جیسا ہی لگتا تھا۔ اس کے طرزِ تعمیر سے اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ عمارت کافی پرانی ہے، جس نے ماضی کے کئی رنگ دیکھ رکھے تھے۔ جیسے ہی ہم اندر داخل ہوئے، ایک چیز نے مجھے دانتوں تلے انگلیاں دبانے پر مجبور کردیا۔
وہاں ایسکلیٹر نصب تھا۔ اتنی پرانی عمارت میں اس جدید سہولت کا وجود ایک خوشگوار حیرت تھی۔ یہ اس بات کی علامت بھی تھی کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بازار بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
پشاور سے کوالالمپور تکاس خوشبو نے میرے قدم روک لیے۔ میرے ساتھ میرے 2 کولیگز بھی تھے اور دونوں ہی پشتون تھے۔ ہم جیسے ہی دکان میں داخل ہوئے تو دنیا کے بڑے برانڈز جیسے ڈیور، چینل، وربرری اور کئی دیگر خوشبوئیں اُس کی دکان میں نہایت سلیقے سے سجی ہوئی تھیں۔ اور ایک پشتون جس کا نام محمد عدنان خان تھا، ویڈیو کال پر کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا۔ پشتو میں گفتگو جاری تھی۔ جونہی کال ختم ہوئی تو میرے کولیگز نے اسے گرمجوشی سے سلام کیا اور پشتو میں حال احوال پوچھا۔
کوالالمپور میں پشاور کا کوناعدنان نے بتایا کہ اس کا تعلق بھی پاکستان سے ہے۔ اس کا گھر پشاور سٹی میں ہے۔ عدنان کی مہمان نوازی کا بھی جواب نہ تھا۔ ہماری گفتگو کے دوران انہوں نے خاص پشاوری قہوہ منگوا کر پیش کیا۔ ایک غیرملکی سرزمین پر قہوہ کی خوشبو اور ذائقہ ایسا لگا جیسے لمحہ بھر کو ہم سب واپس پشاور کے کسی کونے میں بیٹھے ہوں۔
محمد عدنان گزشتہ 9 برس سے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالا لمپور میں رہائش پذیر ہیں۔ اور وہاں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ پرفیومز کا کاروبار کرتے ہیں۔ محمد عدنان تقریباً سال یا ڈیڑھ سال بعد فیملی کے پاس پاکستان آتے ہیں۔
یہ صرف ایک عدنان خان کی کہانی نہیں ہے۔ کوالا لمپور، خاص طور پر جی ایم پلازہ میں بڑی تعداد میں پاکستانی پشتون نوجوان محنت کر رہے ہیں اور کامیاب کاروبار کر رہے ہیں۔
’پشتون پلازہ‘اگر اس جی ایم پلازہ کو ’پشتون پلازہ‘ کہہ دیا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ کیونکہ اس پلازہ میں اکثریت پشتونوں کی تھی۔ کوئی میک اپ کی مصنوعات فروخت کر رہا ہے، کوئی بیگز، کوئی کھلونے اور کوئی الیکٹرانکس کا کاروبار کر رہا ہے۔ تاہم ان سب میں ایک بات مشترک ہے۔ لگن، خلوص اور بے مثال مہمان نوازی۔
مزید پڑھیے: پاکستان ہاکی ٹیم کی جانب سے ملائیشیا میں ہوٹل بلز کی عدم ادائیگی کا انکشاف
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس جگہ کو ہم مزاحاً ’پشتون پلازہ‘ کہہ رہے تھے، اس کا اصل نام جی ایم لورونگ حاجی طیب ہے۔ جب ہم نے پہلی بار یہ نام سنا، تو دل میں یہی خیال آیا کہ شاید اس پلازے کے مالک بھی پاکستان سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ اور ہو سکتا ہے کہ وہ بھی پشاور، چارسدہ یا بونیر کے کسی گاؤں سے آئے ہوئے کوئی پشتون ہوں، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ ’حاجی لورونگ‘ کا تعلق دراصل خود ملائیشیا سے ہے، اور یہ نام مقامی ثقافت اور زبان کا عکاس ہے۔
ملائیشیا میں پاکستانیوں کی بڑھتی تعدادبیورو آف امیگریشن کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سال 2020 میں 2،301، 2021 میں صرف 106، 2022 میں 6،175، 2023 میں 20،905، 2024 میں 5،790، اور 2025 میں اب تک 1،975 پاکستانی روزگار کے لیے ملائیشیا جا چکے ہیں۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ملائیشیا میں پاکستانیوں کی موجودگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر کاروباری شعبے میں۔
کامیابی کی ایک دوسری کہانیعدنان کی طرح جی ایم پلازہ میں ہر دوسری دکان پر پشتون نوجوان محنت کرتے نظر آتے ہیں۔ انہی میں ایک بونیر سے تعلق رکھنے والے رحمت اللہ خان بھی ہیں۔ رحمت اللہ گزشتہ 14 برس سے ملائیشیا میں مقیم ہیں اور میک اپ مصنوعات کا کاروبار کر رہے ہیں۔ ان کی دکان رنگ برنگ کاسمیٹکس سے بھری ہوئی تھی۔ لپ اسٹکس، نیل پالش اور برانڈڈ میک اپ کٹس قطار در قطار سجی تھیں۔
رحمت اللہ نے بتایا کہ جب وہ پہلی بار ملائیشیا آئے تو ان کے پاس زیادہ وسائل نہیں تھے۔ چھوٹی سی دکان سے آغاز کیا، دن رات محنت کی اور آج وہ نہ صرف اپنا کاروبار کامیابی سے چلا رہے ہیں بلکہ دیگر پاکستانیوں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ ان کے بقول ’محنت کر کے اگر عزت کی روٹی کمائی جائے تو انسان کا سر ہمیشہ بلند رہتا ہے۔‘
رحمت اللہ کا ماننا ہے کہ وہ اپنے کاروبار کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافت اور زبان بھی یہاں لے کر آئے ہیں۔ وہ اپنی ثقافت سے کٹ کر نہیں جی سکتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی دکان پر آنے والے گاہک صرف میک اپ خریدنے نہیں آتے بلکہ اکثر ان سے دوستی، گپ شپ اور اپنائیت کا رشتہ بھی قائم کرتے ہیں۔
پردیس کا دکھمگر جب بات پاکستان کے حالیہ سیلاب کی آئی تو رحمت اللہ کی آواز بھرا گئی۔ انہوں نے دل گرفتہ لہجے میں بتایا کہ ’بونیر میں ہمارے خاندان کا بھی بہت نقصان ہوا ہے۔ میرے کئی رشتہ دار اس سیلاب کی نذر ہوگئے۔ گھر اجڑ گئے، کھیت کھلیان پانی میں بہہ گئے۔ پردیس میں رہتے ہوئے سب سے بڑا دکھ یہی ہوتا ہے کہ آپ دور بیٹھے کچھ نہیں کر سکتے، صرف دعائیں کرتے رہتے ہیں’۔
خوشبو جو کرداروں سے بکھرتی ہےملائشیا میں رہنے والے یہ پشتون صرف کاروبار نہیں کر رہے، بلکہ اپنی ثقافت، اپنی زبان اور اپنی خوشبو بھی ساتھ لے کر آئے ہیں۔ ان کی دکانیں صرف تجارتی مقامات نہیں، بلکہ ایسی جگہیں ہیں جہاں ایک غیرملکی سرزمین پر بھی ’اپنائیت‘ محسوس ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: ہیرو اوپن ملائیشیا انٹرنیشنل تائیکوانڈو چیمپیئن شپ میں پاکستان کے 4 میڈلز
ان نوجوانوں نے نہ صرف اپنی محنت سے یہاں جگہ بنائی ہے بلکہ پاکستان کا نام بھی روشن کیا ہے۔ عدنان، رحمت اللہ اور اس جیسے بے شمار نوجوان یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اگر نیت صاف ہو، ارادہ پختہ ہو اور محنت سچی ہو، تو خوشبو صرف دکانوں میں نہیں، کرداروں سے بھی بکھرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ملائیشیا ملائیشیا کا پشتون پلازا ملائیشیا میں پاکستان کی خوشبو ملائیشیا میں پاکستانی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ملائیشیا ملائیشیا کا پشتون پلازا ملائیشیا میں پاکستان کی خوشبو ملائیشیا میں پاکستانی ملائیشیا میں پاکستان میں پاکستانی جی ایم پلازہ کاروبار کر کر رہے ہیں پلازہ میں رحمت اللہ کی دکان کے ساتھ میک اپ
پڑھیں:
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ویڈیو قرار دیا، لیکن جب تنقید کرنے والے خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک ادارے نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔ نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر تنقید کافی برھ گئی تو جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔ غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ شوہر کے مؤقف کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
بنگلہ دیشی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم سے متعلق قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔ غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔
نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ ڈرائیور، دوسری کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا، ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔
پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی
اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید :