غزہ، مزید 59 فلسطینی شہید، یورپی ممالک کا طبی راہداری کھولنے کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 24 September, 2025 سب نیوز

یروشلم(سب نیوز )اسرائیلی بمباری میں جنگ سے تباہ حال غزہ میں مزید 59 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ فوج غزہ شہر کی فلسطینی آبادی پر دہشت مسلط کر رہی ہے اور دسیوں ہزار افراد کو نقل مکانی پر مجبور کر رہی ہے۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق صبح کے اوقات میں غزہ میں کم از کم 51 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں سے 36 غزہ شہر میں مارے گئے ہیں۔

ایمرجنسی سروس کے ذرائع نے بتایا کہ جنوبی غزہ کے علاقے رفح کے قریب ایک امدادی تقسیم کے مرکز پر حملوں میں کھانے کے انتظار میں کھڑے 8 بے بس افراد بھی شہید ہوئے ہیں۔صبح کے ابتدائی اسرائیلی حملوں میں فلسطینیوں کی شہادتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جن میں سب سے زیادہ تباہی محصور غزہ شہر میں دیکھی گئی، کیونکہ بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بننے والا یہ فوجی آپریشن مرکزی شہری مرکز پر قبضے کے لیے جاری ہے۔اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ میں کم از کم 65 ہزار 382 افراد شہید اور ایک لاکھ 66 ہزار 985 زخمی ہوچکے ہیں،

مزید ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں اسرائیل میں مجموعی طور پر ایک ہزار 139 افراد مارے گئے تھے اور تقریبا 200 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔الجزیرہ نے آسٹریلوی ڈاکٹر ندا ابو العرب سے بات کی جو غزہ شہر کے الشفا ہسپتال میں رضاکارانہ خدمات انجام دے رہی ہیں، تاکہ وہاں کی صورتحال جانی جا سکے۔ندا ابو العرب نے اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے پورے پورے خاندانوں کے دل دہلا دینے والے حالات بیان کیے، جو ہسپتال میں ٹکڑوں کی صورت میں پہنچتے ہیں۔

انہوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ آپ یہ تک نہیں جان پاتے کہ یہ ہاتھ کس کا ہے اور یہ ٹانگ کس کی ہے، یہ بالکل کسی خوف ناک فلم جیسا لگتا ہے، ہسپتال کو انہوں نے ذبح خانہ اور قبرستان قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ بمباری مسلسل جاری ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ان لوگوں پر ہر طرح کے ہتھیار آزما رہے ہوں گے، یہ ہر سمت سے قتل ہے، جس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ندا ابو العرب کے مطابق نفسیاتی طور پر، جذباتی طور پر، جسمانی طور پر بچوں کی جو حالت میں دیکھتی ہوں، وہ چیتھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں، یہ ناقابلِ قبول ہے۔

ابو العرب نے کہا کہ یہ ناقابلِ فہم ہے کہ یہ سب کچھ کیسے جاری رہنے دیا جا رہا ہے؟انہوں نے مزید کہا کہ آپ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ کسی میں یہ ہمت یا ہمدردی کیوں نہیں کہ وہ اس کو روک سکے، ہمیں اسے روکنا ہوگا، ہر لمحہ قیمتی ہے جس میں آپ پورے خاندانوں کو زمین سے مٹنے سے بچا سکتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ صرف اس لیے کہ کوئی بھی اسرائیلی حکومت کو اجتماعی قتلِ عام روکنے کا نہیں کہہ رہا، یہاں کوئی محفوظ نہیں، ہر کوئی بس اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے۔25 یورپی ممالک اور کینیڈا کے اتحاد نے اسرائیل سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم تک راستہ بحال کرے، تاکہ غزہ سے طبی انخلا دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

اس اتحاد کی جانب سے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ غزہ کے مریضوں کے علاج میں اضافے کی فوری ضرورت ہے، کیونکہ انسانی بحران بدستور بڑھ رہا ہے۔ان ممالک نے کہا کہ وہ مالی معاونت، طبی عملے کی فراہمی یا درکار سامان دینے کے لیے تیار ہیں تاکہ ہزاروں زخمیوں کا علاج مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں کیا جا سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ فورا ادویات اور طبی سامان کی ترسیل پر پابندیاں ختم کرے، اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے کام کو مکمل طور پر ممکن بنائے، اور یہ یقینی بنائے کہ طبی عملے کو بین الاقوامی قانون کے مطابق تحفظ حاصل ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کی روس یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے کوششوں کی بھرپور حمایت پاکستان کی روس یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے کوششوں کی بھرپور حمایت پیرا فورس خواب کی تعبیر، قبضہ کیسز کا فیصلہ 90 روز میں ہوگا: مریم نواز جدہ :کازا دیورا ہوٹلز میں سعودی عرب کے 95ویں یومِ وطنی کی شاندار تقریب خلیج تعاون کونسل کا بڑا فیصلہ: اب ایک ویزے پر 6 خلیجی ممالک کا سفر کریں غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی ڈرون حملے، ویڈیوز سامنے آگئیں اسلام آباد ہائی کورٹ کا سی ڈی اے کو پلاٹ قبضے کے لیے آخری انتباہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: فلسطینی شہید

پڑھیں:

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔

دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔

قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔

تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟

اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟