پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمشن کو علی امین گنڈا پور کے خلاف کارروائی سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
پشاور(آئی این پی )پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف کارروائی سے روک دیا جبکہ علی امین کا نام پی سی ایل سے نکالنے کیخلاف درخواست پر وفاق سے رپورٹ طلب کرلی گئی ۔وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف درخواست پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی نے کی۔دوران سماعت جسٹس سید ارشد علی نے سوال کیا کہ 90 دن کے بعد الیکشن کمیشن کارروائی کیسے کر سکتا ہے؟ ۔الیکشن کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر لا نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے، کرپٹ پریکٹسز پر کارروائی ہوسکتی ہے، اس میں وقت کی پابندی نہیں۔جس کے بعد عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس کرتے ہوئے 14 دن میں جواب طلب کر لیا۔ علاو ہ ازیں پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا نام پی سی ایل سے نکالنے کے خلاف دائر درخواست پر وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا نام پی سی ایل سے نکالنے کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور دیگر فریقین سے 14 دن کے اندر رپورٹ طلب کرلی۔جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی نے درخواست پر سماعت کی۔وکیل درخواست گزار بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ نے کہا کہ درخواست گزار وزیراعلی ہے اور ان کا نام پی سی ایل میں شامل کیا ہے، سفارتی پاسپورٹ جاری نہیں کیا جا رہا۔جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ آپ نے اپلائی نہیں کیا ہوگا؟وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ اپلائی کیا ہے اور یاد دہانی خط بھی لکھا ہے اس کے باوجود سفارتی پاسپورت جاری نہیں کیا جا رہا۔جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دئیے کہ آپ باہر بھی تو نہیں جا رہے، ویزا آپ نے نہیں لگایا۔ وکیل نے کہا کہ اگلے مہینے وزیراعلی ایک وفد کے ساتھ بیرون ملک جا رہے ہیں۔ جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دئیے کہ آپ کو جانے سے کون روک سکتا ہے۔عدالت نے کہا کہ اس میں فریقین سے رپورٹ طلب کرتے ہیں، جس کے بعد ہائیکورٹ نے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 14 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جسٹس سید ارشد علی نے علی امین گنڈاپور کا نام پی سی ایل الیکشن کمیشن درخواست پر رپورٹ طلب کے خلاف
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔