ڈیرہ اسماعیل خان، سکیورٹی فورسز کی کارروائی، فتنۃ الہندوستان کے 13 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کے دوران بھارتی پراکسی ’فتنہ الخوارج‘ کے 13 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 25 ستمبر 2025 کو سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسمٰعیل خان کے علاقے ڈرابن میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کی۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ علاقے میں بھارتی پراکسی ’فتنہ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی گئی۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بھارتی حمایت یافتہ 13 خارجیوں کو جہنم واصل کردیا گیا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق ہلاک ہونے والے بھارتی حمایت یافتہ خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، یہ خوارج اس علاقے میں کئی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے جن میں دسمبر 2023 میں ڈرابن میں خودکش حملے کی سہولت کاری، سرکاری اہلکاروں اور معصوم شہریوں کے اغوا اور ٹارگٹ کلنگ شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ علاقے میں کسی بھی دوسرے بھارتی حمایت یافتہ خوارج کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے جب کہ سیکیورٹی فورسز ملک سے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں۔
اس سے قبل، ترجمان پاک فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ خیبرپختونخوا میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس کی بنیاد پر 2 مختلف کارروائیوں کے نتیجے میں بھارتی حمایت یافتہ فتنۃ الخوارج کے 31 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 13 اور 14 ستمبر کو سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں 2 مختلف کارروائیاں کیں جس کے نتیجے میں بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے 31 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارتی حمایت یافتہ سیکیورٹی فورسز ا ئی ایس پی ا ر میں بھارتی فورسز نے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔