’ہمیں پاکستان سے بہتر ہونا ہے‘، بھارت نے بڑی ڈرون مشقوں کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
بھارت کی فوج آئندہ ماہ بڑے پیمانے پر ڈرون اور کاؤنٹر ڈرون سسٹمز کی جانچ کے لیے ایک اہم فوجی مشق کرنے جا رہی ہے۔ یہ اعلان منگل کو ایک سینئر عسکری افسر نے کیا۔
یہ مشق اس پس منظر میں سامنے آ رہی ہے جب چند ماہ قبل پاکستان کے ساتھ تنازع کے دوران بڑی سطح پر ڈرونز اور بغیر پائلٹ فضائی نظام کا استعمال کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:پاک بھارت کشیدگی: پاکستان نے اب تک بھارت کے کتنے ڈرونز گرادیے؟
بھارتی فضائیہ کے نائب سربراہ برائے انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف، ایئر مارشل راکیش سنہا کے مطابق اس مشق کا نام ’کولڈ اسٹارٹ‘ رکھا گیا ہے، جو بھارت کی اب تک کی سب سے بڑی ڈرون وار گیمز ہوگی۔
’یہ مشق اکتوبر کے پہلے ہفتے میں منعقد کی جائے گی، جس میں دفاعی صنعت کے نمائندے اور محققین بھی شریک ہوں گے۔‘
ایئر مارشل سنہا نے کہا کہ اس مشق کے دوران ڈرون اور کاؤنٹر ڈرون سسٹمز کی آزمائش کی جائے گی تاکہ فضائی دفاع کو مزید مضبوط اور جدید بنایا جا سکے۔
انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف کے سربراہ ائیر مارشل اشوتوش ڈکشٹ نے بتایا کہ اس مشق میں مئی میں ہونے والے پاکستان تنازع کے دوران استعمال ہونے والے ڈرون وار فیئر کو بھی جزوی طور پر دہرانے کی کوشش کی جائے گی۔
مزید پڑھیں:ننکانہ صاحب میں سکھوں کے مقدس مقام پر بھارتی ڈرون حملہ، سکھ اب کیا سوچ رہے ہیں؟
انہوں نے مزید کہا کہ ڈرون اور کاؤنٹر ڈرون سسٹمز بھارت کے نئے سُدرشن چکر ایئر ڈیفنس سسٹم کا بنیادی حصہ ہوں گے، جس میں طیارے اور کاؤنٹر ہائپرسونک سسٹمز بھی شامل کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھی اس میدان میں کام کر رہا ہے اور بہتر ہو رہا ہے، اس لیے ہمیں اس سے ایک قدم آگے بڑھنا ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایئر ڈیفنس سسٹم ڈرون ڈرون وار فیئر سُدرشن چکر طیارے کاؤنٹر ڈرون سسٹمز کاؤنٹر ہائپرسونک سسٹمز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایئر ڈیفنس سسٹم ڈرون وار فیئر س درشن چکر طیارے کاؤنٹر ڈرون سسٹمز کاؤنٹر ہائپرسونک سسٹمز کاؤنٹر ڈرون سسٹمز اور کاؤنٹر
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :