95 فیصد مرد دوسری شادی کے خواہشمند ہیں، صائمہ قریشی
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی سینئر اداکارہ صائمہ قریشی کا کہنا ہے کہ 95 فیصد مرد دوسری شادی کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ایک پوڈکاسٹ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صائمہ قریشی نے اپنے ماضی کے بیانات کو ایک بار پھر دہرایا، جن میں عورت کی کمائی اور مرد کی دوسری شادی سے متعلق خیالات شامل تھے۔صائمہ قریشی کا کہنا تھا کہ اگر مردوں کو افیئرز چلانے کا شوق ہے تو بہتر ہے کہ وہ کسی کی ذمہ داری اٹھائیں، کیونکہ مرد کی غلط حرکات نہ صرف خاندان بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی کے جذبات سے کھیلنے کے بجائے مردوں کو حلال راستہ اپنانا چاہیے اور دوسری شادی کرنی چاہیے۔ صائمہ قریشی نے سوال اُٹھایا کہ اگر مرد دوسری شادی کرے تو اس بُرا کیوں سمجھا جاتا ہے کیا اس کا افیئر چلانا دوسری شادی کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ اداکارہ نے مزید کہا کہ اگر کسی مرد کی بیوی اس کی دوسری شادی پر راضی نہ ہو تو اسے لازمی طور پر بیوی کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اسلام میں اس حوالے سے کوئی پابندی موجود نہیں۔صائمہ قریشی کے مطابق مردوں کو حرام تعلقات سے بچنے کے لیے خوفزدہ ہونے کے بجائے واضح اور ذمہ دارانہ فیصلے کرنے چاہییں۔ انہوں نے زور دیا کہ مردوں کو چاہیے کہ وہ اپنی خواہشات کو معاشرتی دباؤ کے بجائے دینی اصولوں کے مطابق پورا کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مردوں کو
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔