گردشی قرضہ تمام وسائل نگل رہا تھا، اس مسئلے سے نمٹنا بہت بڑی کامیابی ہے: وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 25 September, 2025 سب نیوز

نیویارک(آئی پی ایس) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ بجلی کے شعبے میں گردشی قرضہ تمام وسائل کو نگل رہا تھا ا س کے مسائل سے نمٹنا بہت بڑی کامیابی ہے۔

نیویارک میں شعبہ توانائی کے گردشی قرضے کے خاتمے کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ گردشی قرضہ تمام وسائل کو نگل رہا تھا اور یہ مسلسل بڑھتا جارہا تھا، گردشی قرضے کے مسائل سے نمٹنا بہت بڑی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہاکہ وزیرتوانائی کی سربراہی میں ٹاسک فورس نے مستعدی سے کام کیا اور آئی پی پیز کے ساتھ کامیاب مذاکرات کیے، گردشی قرضے کا منصوبہ اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

وزیراعظم کاکہنا تھا کہ بجلی کے شعبے میں لائن لاسز بھی ایک بڑا چیلنج ہے، اگلے مرحلے میں لائن لاسز کے مسئلے پر توجہ دی جائے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے اہم ملاقات ہوئی، انہوں نے پاکستان کی معاشی بہتری کی تعریف کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرتوانائی اویس لغاری نے کہا کہ گردشی قرضے کی وجہ سے معیشت پربہت بوجھ ہے اور اس وجہ سے توانائی کا شعبہ متاثر ہورہا تھا، گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے اتفاق رائے سے لائحہ عمل وضع کیاگیا، گردشی قرضے کے خاتمے کی اسکیم شعبہ توانائی میں اصلاحات کا حصہ ہے، اسکیم کے تحت آئندہ 6 سال میں گردشی قرضے سے نجات حاصل ہوجائےگی۔

اس موقع پر وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاور سیکٹر کے اسٹرکچرل مسائل حل ہورہے ہیں، گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے ایک سال سے کوششیں جاری تھیں، گردشی قرضے کے خاتمے کی اسکیم اہم سنگ میل ہے، گردشی قرضے کے خاتمے کی توانائی کے شعبے پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم کا پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان تعلقات مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ وزیراعظم کا پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان تعلقات مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ عرب اسلامی سربراہی اجلاس کے اختتام پر امریکی صدر اور وزیراعظم شہباز شریف کی غیر رسمی گفتگو چوہدری ظہور الٰہی شہید کا 44واں یوم شہادت آج منایا جا رہا ہے ڈپلومیٹک پاسپورٹ کیس؛ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر پر فرد جرم عائد وزیراعظم شہباز شریف کی آج وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات متوقع ایک سال سے کہانیاں سنائی جارہی ہیں، سات دن میں خالی آسامیاں پُر کریں، جسٹس محسن اختر کیانی ڈپٹی کمشنر پر برہم TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: نگل رہا تھا

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ