اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را بلوچستان میں “انٹیلی جنس بیسڈ وار” کو ہوا دے رہی ہے اور مختلف علیحدگی پسند گروپوں کو اکٹھا کرنیکی کوشش کر رہی ہے تاکہ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ افغان حکومت دوحہ معائدے کی پاسداری نہیں کر رہی ہے۔ افغانستان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے افغانستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہشتگردوں کو سرپرستی اور محفوظ ٹھکانے فراہم کر رہا ہے، جہاں سے پاکستان پر سرحد پار حملے کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین بدستور دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور حالیہ کارروائیوں میں مارے جانے والے کئی دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے تھا۔ انہوں نے طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ دوحہ معاہدے کی پاسداری کرے، جس کے تحت افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکمران اپنے وعدے پورے کریں اور پاکستان کے خلاف دہشتگردوں کو سرگرمیاں جاری رکھنے سے روکیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں قیام امن کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ دہشتگردوں کے خلاف سخت ترین زمینی اور فضائی آپریشنز جاری ہیں، ریاست کی رٹ کو کسی صورت چیلنج نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہیں کسی صورت رعایت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فورسز نے گزشتہ روز دہشت گردوں کے خلاف اہم کارروائی کی، ہم نے چاغی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ آپریشن میں زبیر نامی شخص اور اس کا ساتھی مارا گیا، اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ زبیر ایک وکیل تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دہشتگرد زبیر عرف شاہ جی چینی باشندوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا تھا اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لئے تخریبی منصوبہ بندی کرتا تھا۔

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ زبیر عرف شاہ جی دالبدین میں بی ایل اے کے لیے دہشتگرد بھی بھرتی کرتا تھا، دہشتگردوں نے ’ براس ’ کے نام سے ایک تنظیم بنا رکھی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گرد جہانزیب نے ہتھیار ڈالے اور اس کے دیگر ساتھی ہلاک ہوگئے، جہانزیب نے سرینڈر کیا اور ویڈیو بیان میں مختلف کارروائیوں کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ 14 اگست کو بلوچستان میں ایک پروفیسر کی جانب سے دہشتگرد حملے کا منصوبہ تھا، دہشت گرد اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا چاہتے تھے، مگر سیکیورٹی فورسز نے ان کے منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را بلوچستان میں “انٹیلی جنس بیسڈ وار” کو ہوا دے رہی ہے اور مختلف علیحدگی پسند گروپوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔

انٹرنیٹ سروس کی معطلی پر تنقید کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ اقدام دہشتگردوں کے رابطوں کو ناکام بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ ہمارا مقصد عوام کو مشکلات میں ڈالنا نہیں بلکہ ان کی جانیں بچانا ہے۔ لاپتہ افراد کے معاملے پر سرفراز بگٹی نے انسانی حقوق کے کارکنوں کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “خود غائب ہونے” اور “جبری گمشدگی” میں فرق ہے جسے جان بوجھ کر دھندلا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ تاثر بھی رد کیا کہ بلوچستان میں کوئی کٹھ پتلی حکومت قائم ہے، اور کہا کہ صوبائی حکومت اپنے فیصلے خود کر رہی ہے تاکہ امن قائم ہو اور ترقی کو آگے بڑھایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مصنوعی سیاروں (سیٹلائٹ) کے ذریعے نگرانی کی جائے گی تاکہ پاکستان کی افیون سے پاک حیثیت برقرار رکھی جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سرفراز بگٹی کرتے ہوئے کر رہی ہے کے خلاف رہے ہیں جا سکے کے لیے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار