امریکی صدر پر میئر لندن کا جوابی وار، نفاذ شریعت کے دعوے کو قطعی جھوٹ قرار دےدیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن کے میئر سر صادق خان نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نسل پرست، جنس پرست، خواتین اور مسلمان مخالف قرار دیتے ہوئے کہا یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں ٹرمپ کے دماغ میں بغیر کرائے کے موجود ہوں۔
عالمی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے گزشتہ روز سر صادق خان کو ایک مرتبہ پھر تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور صادق خان کو خطرناک میئر قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ صادق خان لندن میں شرعی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ لندن بدل چکا ہے، غیر قانونی تارکین نے یورپ پر ہلہ بول دیا ہے۔
میئر لندن سر صادق خان کے ترجمان نےصدر ٹرمپ کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ لندن دنیا کے عظیم شہروں میں سے ایک ہے جو امریکا کے بڑے شہروں سے زیادہ محفوظ ہے، امریکیوں کی ریکارڈ تعداد لندن منتقل ہو رہی ہے جنہیں ہم یہاں خوش آمدید کہتے ہیں۔
دوسری جانب لیبر اراکین بھی میئر لندن سر صادق خان کی حمایت میں آواز بلند کر رہے ہیں۔
ہیلتھ سیکرٹری ویس اسٹریٹنگ نے کہا ہے کہ سر صادق خان لندن میں شرعی قوانین نافذ نہیں کر رہے،ایم پی روپا حق نے صدر ٹرمپ کے دعوے کو قطعی جھوٹ قرار دیا جبکہ ایم پی روزینہ خان نے امریکی سفیر کو طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے میئر لندن صادق خان نے کہا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں بغیر کرائے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دماغ میں موجود ہوں۔
سر صادق خان نے امریکی صدر پر جوابی لفظی گولہ باری کرتے ہوئے کہا ڈونلڈ ٹرمپ نسل پرست اور جنس پرست ہونے کے ساتھ ساتھ خواتین اور اسلام کے خلاف ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ کے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔