وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے طویل ملاقات: دونوں عظیم رہنما، امریکی صدر
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
واشنگٹن+ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ عزیز علوی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان وائٹ ہاؤس میں اہم اور طویل ملاقات ہوئی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے۔ ملاقات میں میڈیا کو مدعو نہیں کیا گیا ۔ یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلا باضابطہ رابطہ ہے۔ وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف پاکستانی وفد کے ہمراہ واشنگٹن کے اینڈریو ائیر بیس پہنچے تو ریڈ کارپٹ پر امریکی ایئر فورس کے اعلیٰ عہدیدار نے استقبال کیا۔ وزیراعظم کا موٹر کیڈ امریکی سکیورٹی کے حصار میں ائیر بیس سے روانہ ہوا۔ ملاقات سے قبل امریکی صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاکستان سے عظیم رہنما آ رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف شاندار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بہترین شخصیت کے مالک ہیں۔ دونوں عظیم رہنما ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں مسئلہ کشمیر‘ علاقائی‘ عالمی صورتحال اور دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ باہمی تجارت بڑھانے اور معدنیات کے حوالے سے تعاون بھی زیر بحث آیا۔ ملاقات میں غزہ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ علاوہ ازیں امریکی محکمہ خارجہ کی اردو ترجمان مارگریٹ میک لاڈ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ گزشتہ 80سال میں اپنے مقاصد سے دور ہوگئی۔ مسئلہ کشمیر پر امریکا کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مسئلہ کشمیر پر شملہ معاہدے کے تحت دو طرفہ مذاکرات ہونے چاہئیں۔ صدر ٹرمپ کو جنوبی ایشیا میں امن قائم کرنے پر فخر ہے، انہیں امید ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی فضا قائم رہے گی۔ مارگریٹ میک لاڈ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اقوام متحدہ اپنے چارٹر کے مطابق امن، خود مختاری اور آزادی کو سرفہرست رکھے۔ امریکا ایسی اقوام متحدہ چاہتا ہے جو ہر رکن کی خودمختاری کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا مسلم ممالک کے ساتھ مل کر غزہ میں بہتری کیلئے کوشاں ہے، تاہم امریکا مشرق وسطی کے مستقبل میں حماس کا کوئی کردار نہیں دیکھتا، حماس کو ہتھیار ڈالنے اور تمام یرغمالیوں کو رہا کرنا ہوگا۔ مارگریٹ میک لاڈ نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ پاکستان بھارت جنگ روکنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ وہ جنوبی ایشیا میں امن قائم کرنے پرخوش ہیں، ان کو امید ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی فضا برقرار رہے گی۔ مقبوضہ کشمیر سے متعلق کیے جانے والے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر شملہ معاہدے کے تحت دو طرفہ مذاکرات ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر امریکا کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، پاک امریکا تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ترک صدر رجب طیب اردگان سے ملاقات میں ان کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے۔ ترک صدر رجب طیب اردگان کے وائٹ ہاؤس پہنچنے پر صدر ٹرمپ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ بعد ازاں ون آن ون ملاقات سے قبل ترک صدر کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے انہیں بہترین آدمی قرار دیا اور کہا کہ صدر اردگان بہت مضبوط شخص ہیں اور اپنی ایک مضبوط رائے رکھتے ہیں۔ مجھے عام طور پر ایسے لوگ پسند نہیں ہوتے لیکن انہیں میں پسند کرتا ہوں۔ صدر اردگان نے اپنے ملک میں بہترین کام کیا ہے اور ہمارے تعلقات بہترین رہے ہیں چاہے ان کا تعلق جنگ سے ہو یا تجارت سے۔ صدر اردگان نیوٹرل رہنا پسند کرتے ہیں اور میں بھی نیوٹرل رہنا پسند کرتا ہوں۔ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرائن جنگ کے معاملے پر جو بہترین کام یہ کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ روس سے تیل اور گیس خریدنا چھوڑ دیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ شام کو اس کے سابق حکمران سے چھٹکارا دلوانے کے ذمہ دار صدر اردگان ہیں۔ یہ اس کی ذمہ داری نہیں لیتے جبکہ یہ ان کی بڑی کامیابی ہے۔ صدر اردگان کو اس کا کریڈٹ لینا چاہئے۔ میں نے ان سے کہا بھی کہ یہ آپ کی کامیابی ہے اس کا کریڈٹ لیں۔ آپ ہزار سال سے شام حاصل کرنا چاہتے تھے اور آپ اس میں کامیاب رہے۔
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گردشی قرضے سے نمٹنے کے منصوبے کو بہت بڑی کامیابی اور اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈسٹری بیوشن لائنوں کو بہتر بنانا اور لائن لاسز پر قابو پانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان کی معاشی بہتری کو سراہا ہے اور سیلاب کے باعث تعاون کا یقین دلایا ہے۔ معاشی اشاریوں میں بہتری، ایف بی آر، بجلی اور آئی ٹی کے شعبوں میں بہتری بہت اہم پیش رفت ہے۔ ہمت اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھیں تو ملک مشکلات سے نکل آئے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں پاکستان میں شعبہ توانائی کے گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے نئے طے شدہ مالیاتی منصوبے (سرکلر ڈیٹ فنانسنگ کی سہولت) کی افتتاحی تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گردشی قرضہ مسلسل بڑھتا جا رہا تھا اور یہ ہمارے وسائل نگلتا جا رہا تھا۔ گردشی قرضے کے مسئلے سے نمٹنا بہت بڑی کامیابی ہے۔ گردشی قرضے کا منصوبہ اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے، اس کا سہرا ٹاسک فورس کے سر ہے۔ وزیر توانائی کی سربراہی میں ٹاسک فورس نے مستعدی سے کام کیا ہے۔ آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ ٹاسک فورس نے آئی پی پیز کے ساتھ کامیاب مذاکرات کیے۔ سب نے اپنی اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے ادا کی ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بھرپور حمایت سے ہمیں کامیابی ملی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات ہوئی ہے، انہوں نے پاکستان کی معاشی بہتری کے حوالہ سے کارکردگی اور تیزی سے اصلاحات کو سراہا ہے۔ پہلی مرتبہ آئی ایم ایف کی کسی مینجنگ ڈائریکٹر نے یہ تعریف کی ہے کہ پاکستان نے معاشی بہتری کے لیے مثالی اقدامات کیے ہیں اور سنجیدگی کے ساتھ اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے سیلاب کا بھی ذکر کیا اوراس سے نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس حوالے سے تعاون کا یقین دلایا کہ ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگلا مرحلہ اب ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری ہے۔ ڈسٹری بیوشن لائنوں کو بہتر بنانا اور لائن لاسز پر قابو پانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگلے مرحلے میں لائن لاسز کے مسئلے پر توجہ دی جائے۔ وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ گردشی قرضے کی وجہ سے توانائی کا شعبہ متاثر ہو رہا تھا۔ گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے اتفاق رائے سے لائحہ عمل وضع کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے گزشتہ ایک سال سے کوششیں جاری تھیں۔ گردشی قرضے کے خاتمے کی سکیم اہم سنگ میل ہے۔ گردشی قرضے کے خاتمے کے توانائی کے شعبے پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ صدر حبیب بینک نے کہا کہ ایچ بی ایل کے لیے یہ ایک بڑا اہم موقع ہے۔ صدر و سی ای او پنجاب بینک ظفر مسعود نے کہا کہ پاکستان کے بینکاری نظام میں یہ تاریخی ٹرانزیکشن ہے۔ گردشی قرضے کے خاتمے کا منصوبہ اہم پیش رفت ہے۔ پالیسی ریٹ کم ہونے سے چھ سال کے اندر قرض ادا ہو جائے گا۔ گردشی قرضے کی ادائیگی بینکوں پر مسلط کیے جانے کا تاثر درست نہیں۔ چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی نے کہا کہ گردشی قرض ادائیگی کا منصوبہ مشاورت سے وضع کیا گیا۔ وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس لغاری کی قیادت میں توانائی کا شعبہ بہتری کی جانب گامزن ہے۔ توانائی کے شعبے میں اہم اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے بل گیٹس فائونڈیشن کے بانی بل گیٹس نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقع پر خوشگوار ماحول میں ملاقات کی۔ وزیراعظم نے بل گیٹس فائونڈیشن کی طرف سے 2022ء کے سیلاب کے پیش نظر قابل ذکر امدادی کارروائیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے 2025ء کے سیلاب کے بعد دی جانے والی امداد کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔ وزیراعظم نے پاکستان میں پولیو کے تدارک، قوت مدافعت اور غذائی معیار میں اضافے اور معاشی شمولیت کے لیے حکومتی اقدامات میں بل گیٹس فائونڈیشن کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ دریں اثناء وزیراعظم محمد شہباز شریف اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے کثیر الجہتی تعاون بالخصوص تجارت، علاقائی سطح پر تعاون اور دونوں ممالک کے عوام کے باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات کی۔ بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر شہباز شریف سے گرمجوشی سے گلے ملے۔ دونوں رہنماؤں کی خوشگوار ماحول میں گرمجوشی سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے دو طرفہ تعلقات کو مزید بہتر اور مضبوط بنانے اور کثیر الجہتی تعاون بالخصوص تجارت، علاقائی تعاون اور دونوں ممالک کے عوام کے باہمی تعلقات کو بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر نے باہمی سفارتی تعلقات میں بہتری اور عالمی و علاقائی سطح پر پاکستان کے کردار کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے باہمی تجارت اور ثقافتی تعلقات کو بہتر کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر گردشی قرضے کے خاتمے محمد شہباز شریف نے کہا کہ گردشی مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ نے پاکستان نے کہا کہ ا امریکی صدر فیلڈ مارشل صدر اردگان ملاقات میں میں بہتری تعلقات کو کے درمیان کرتے ہوئے انہوں نے کیا گیا بل گیٹس کے ساتھ کو بہت کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔