ایک اور پاکستانی اداکارہ کی طلاق ہوگئی، حیران کن وجہ بھی بتادی
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
معروف اداکارہ انوشے عباسی نے بالآخر اپنے شوہر اینان عارف سے علیحدگی کی تصدیق کردی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ درحقیقت ان کی طلاق 2019 میں ہی ہو چکی تھی، لیکن انہوں نے اسے عوامی سطح پر اس وقت تک ظاہر نہیں ہونے دیا جب تک ان کی والدہ حیات تھیں۔
انوشے عباسی، جو مشہور ڈراما سیریل ’پیارے افضل‘ میں اپنی اداکاری کےلیے جانی جاتی ہیں، نے 2014 میں اداکار اینان عارف سے شادی کی تھی۔ ان کی شادی کی تصاویر اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔ تاہم، اب انہوں نے بتایا کہ یہ رشتہ محض پانچ سال ہی چل سکا۔
اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے طلاق کی خبر کو اس لیے چھپایا کیونکہ اس وقت ان کی والدہ شدید علیل تھیں۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ لوگ آکر ان کی والدہ سے اس بارے میں سوالات کریں اور انہیں تکلیف ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں اپنی ماں کو بیمار رہتے ہوئے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی، اسی لیے میں نے اس خبر کو میڈیا سے دور رکھا۔‘‘
انوشے عباسی کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ان کے زخم بھر گئے ہیں، اسی لیے اب وہ اس معاملے پر کھل کر بات کر رہی ہیں۔ انہوں نے 2021 میں اپنی والدہ کے انتقال کے بعد کے مشکل دور کا بھی ذکر کیا، جب پورے خاندان نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد 2012 میں انتقال کر گئے تھے، اور والدہ کے جانے کے بعد تمام بہن بھائی ایک دوسرے کے اور قریب ہو گئے، کیونکہ یہی ان کے والدین کی خواہش تھی۔
یہ انکشاف انوشے عباسی کی ذاتی زندگی کے ایک اہم باب کو بند کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وہ اس صورتحال کے ساتھ سمجھوتہ کر چکی ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ زندگی پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ