وفاقی وزیر قومی صحت نے میڈیکل و ڈینٹل پروفیشنلز کیلئے لائسنسنگ سسٹم کا آغاز کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 26 ستمبر2025ء) وفاقی وزیر قومی صحت مصطفی کمال نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کے کراچی ریجنل آفس میں باضابطہ طور پر میڈیکل اور ڈینٹل پروفیشنلز کے لیے لائسنسنگ سسٹم کا آغاز کر دیا ہے۔ جمعہ کووزارت صحت کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اہم قدم میڈیکل اور ڈینٹل گریجویٹس اور پریکٹیشنرز کی سہولت کے لیے اٹھایا گیا ہے، یہ ڈیجیٹل اقدام رجسٹریشن کے عمل کو آسان اور تیز بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے میڈیکل اور ڈینٹل پریکٹیشنرز کو کراچی سے اسلام آباد ہیڈ آفس جانے کی ضرورت نہیں رہے گی اور تمام رجسٹریشن سروسز پی ایم اینڈ ڈی سی کراچی ریجنل آفس میں دستیاب ہوں گی ۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ کراچی ریجنل آفس بھی آن لائن درخواستوں کے جمع کرانے اور پروسیسنگ میں مدد فراہم کرے گا، جو ڈاکٹرز آن لائن پورٹل پر درخواست فارم بھرنے میں مشکلات کا سامنا کریں گے انہیں ریجنل آفس کے عملے کی جانب سے مکمل معاونت فراہم کی جائے گی ۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نئے گریجویٹس، میڈیکل و ڈینٹل پروفیشنلز اور سپیشلسٹس اپنی رجسٹریشن جلد اور محفوظ طریقے سے مکمل کر سکیں گے، اس نظام سے زیادہ شفافیت، موثریت اور سہولت کو فروغ ملے گا، میڈیکل ایجوکیشن کے معیار کو بلند کرنے کے لئے پر عزم ہیں ۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔