سندھ ہائیکورٹ،پولیس کی حراست سے شہری کی گمشدگی پر جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250927-08-26
کراچی (اسٹاف رپورٹر) عدالت نے پولیس کی تحویل سے شہری عمران خانزادہ کی گمشدگی سے متعلق درخواست پر فریق کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 13 اکتوبر تک جواب طلب کر لیا۔سندھ ہائیکورٹ میں پولیس کی تحویل سے شہری عمران خانزادہ کی گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔درخواست گزار یحییٰ خان کے مطابق اے وی ایل سی کی ٹیم نے26 اگست کو عمران خانزادہ اور اس کے کزن حبیب الرحمن کو حراست میں لیا تھا۔ایڈووکیٹ حیدر امام نے عدالت کو بتایا کہ سب انسپکٹر جہانگیر نے رہائی کے عوض 25 لاکھ روپے رشوت طلب کی۔ بعد ازاں مجسٹریٹ نے تھانے پر چھاپا مار کر حبیب الرحمن کو بازیاب کرا لیا تاہم پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خانزادہ دوسرے تھانے کی تحویل میں ہے۔درخواست گزار کے وکیل کے مطابق مختلف تھانوں کے چکر لگانے کے باوجود عمران خانزادہ کا کچھ پتا نہیں چل سکا۔بعدازاں عدالت نے ایس ایچ او اے وی ایل سی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا اور شہری کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سیکرٹری داخلہ، آئی جی سندھ، ایس ایس پی ایسٹ، اے وی ایل سی کے سب انسپکٹر جہانگیر، ایس ایچ او مبینہ ٹاؤن اور ایس ایچ او سہراب گوٹھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کر لیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔