جسٹس طارق موقع ملنے کے باوجود کمرہ عدالت سے چلے گئے، سندھ ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے اسلام آباد کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق درخواستوں کی گزشتہ روز کی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
فیصلہ آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس کے کے آغا نے تحریر کیا، عدالت نے 7 درخواستوں کے فیصلے علیحدہ پیراگراف کی صورت میں شامل کیے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے وکیل درخواست گزاروں سے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب کیے۔ وکلا درخواست گزاروں کا اصرار تھا کہ پہلے اعتراضات پر فیصلہ کیا جائے۔ وکلا درخواست گزاروں نے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل سے انکار کیا۔
جسٹس کے کے آغا نے تحریری فیصلے میں کہا کہ وکلا کو سماعت کا موقع دیا گیا تھا تاہم انہوں نے موقع ضائع کیا۔ درخواست گزاروں کے وکلا دوران سماعت کمرہ عدالت چھوڑ کر چلے گئے، اس لیے تمام درخواستوں کو عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کیا جاتا ہے۔
تحریری فیصلے میں جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے عدالت کی اجازت سے باوقار انداز میں بات کی لیکن جسٹس طارق محمود جہانگیری نے درخواست کے کسی نکتے پر بات نہیں کی اور موقع دیے جانے کے باوجود جسٹس طارق محمود جہانگیری کمرہ عدالت چھوڑ کر چلے گئے۔
جسٹس کے کے آغا نے تحریری فیصلے میں کہا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کی فریق بننے کی درخواست بھی عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کی جاتی ہے، درخواست گزار اور فریق نے جان بوجھ کر سماعت سے انکار کیا اور واک آوٹ کیا۔ دانستہ عدم دلچسپی کی بنیاد پر عدالتی کارروائی کو نقصان پہنچایا گیا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ اعلیٰ عدالتوں کے پاس عدم پیروی یا عدم تعمیل کی صورت میں درخواستوں کو مسترد کرنے کا اختیار ہے۔ عدم پیروی پر عدالت کو مجبوراً درخواستوں کو مسترد کرنا پڑا۔ بیرسٹر صلاح الدین اور فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے بینچ کی تشکیل پر اعتراض کیا، عدالتی کارروائی کس طرح چلانی ہے یہ طے کرنے کی مجاز عدالت ہے۔ وکلا کی خواہش کے مطابق عدالتی کارروائی طے نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے فیصلہ کیا تھا کہ اعتراضات اور قابل سماعت ہونے کا فیصلہ مشترکہ آرڈر کے ذریعے کیا جائے گا۔ اعتراضات درست ثابت ہونے کی صورت میں قابل سماعت ہونے کا معاملہ ثانوی ہو جاتا لیکن بدقسمتی سے وکلا درخواست گزاروں نے اصرار کیا کہ پہلے اعتراضات پر فیصلہ کیا جائے، عدالت نے وکلا درخواست گزاروں کو آگاہ کیا کہ تمام معاملات ایک ساتھ سنے اور طے کیے جائیں گے۔ تمام درخواست گزاروں کے وکلا کمرہ عدالت چھوڑ کر چلے گئے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ وکلا درخواست گزاروں کا رویہ واضح عدم دلچسپی ظاہر کرتا ہے، وکیل درخواست گزاروں نے دانستہ طور پر سماعت کا موقع استعمال نہیں کیا۔ وکلا نے عدالت کے خلاف نعرے بازی کی اور عدالتی وقار کو مجروح کیا۔ ایسا طرز عمل سینیئر وکلا کے لیے نامناسب اور ان کے شایان شان نہیں، عدالت نے زیادہ سے زیادہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نوٹس جاری نہیں کیا۔ امید ہے وکلا آئندہ عدالتی وقار کا خیال رکھیں گے۔
عدالت کی تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ بیرسٹر صلاح الدین اور فیصل صدیقی ایڈووکیٹ کے اعتراضات 22 ستمبر کے عدالتی آرڈر سے متعلق تھے وار یہ عدالتی آرڈر اب تک برقرار ہے۔ عدالتی آرڈر پر اعتراض کی صورت میں درست طریقہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنا تھا۔ ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا گیا۔
بینچ کی جانبداری سے متعلق طے شدہ اصول ہے کہ یہ جج کا خود کو الگ کرنا یا نا کرنا جج کے ضمیر یا مرضی پر منحصر ہے۔ بینچ کے دونوں ججز اس نتیجے پر پہنچے کہ خود کو الگ کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔
طے شدہ اصول ہے کہ کسی درخواست کے قابل سماعت کا سوال موجود ہو تو پہلے اس کا فیصلہ کیا جانا چاہیئے۔ عدالت سمجھتی ہے کہ درخواستوں میں مانگے گئے ریلیف کی بنیاد پر درخواستیں آئینی بینچ کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔
وکلا درخواست گزاروں نے سماعت کا موقع ضائع کیا اور عدالت کے باہر جاتے ہوئے شور شرابہ کیا۔ وکلا کی جانب سے ایسا رویہ قابل مذمت ہے۔ رجسٹرار ہائیکورٹ سماعت کے دوران کمرہ عدالت کے اندر اور باہر کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگز اور آڈیو ریکارڈنگ فوری طور پر محفوظ کریں۔ عدالت اپنی کارروائی کو خود ریگولیٹ کرے گی۔ عدالتی کارروائی کو وکلا کے خواہش کے سامنے یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا۔
درخواستیں عارف اللہ خان، اسلام آباد ہائیکورٹ بار، ڈاکٹر ریاض احمد، قادر راجپر، عامر نواز وڑائچ صدر کراچی بار ایسوسی ایشن، ملیر کورٹ بار ایسوسی ایشن، محمد عابد حسین ساقی و دیگر وکلا کی جانب سے دائر کی گئیں تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جسٹس طارق محمود جہانگیری تحریری فیصلے میں کہا گیا وکلا درخواست گزاروں درخواست گزاروں نے عدالتی کارروائی قابل سماعت ہونے کی بنیاد پر کی صورت میں درخواست کے کمرہ عدالت جسٹس کے کے عدم پیروی فیصلہ کیا سماعت کا عدالت نے چلے گئے نہیں کی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔