Express News:
2026-07-24@01:24:37 GMT

رابرٹ ریڈ فورڈ

اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT

ہالی وڈ کے سنہری عہد کی یاد آتے ہی ذہن میں ایک ایسی شخصیت ابھرتی ہے جس نے فلم کو خواب کی لطافت اور فن کی گہرائی بخشی۔ روشنیوں اور شہرت کے اس دائرے کے پیچھے ایک ایسا فنکار تھا جو روایت شکن سوچ رکھتا تھا، کہانی کو محض تفریح نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری سمجھتا تھا، فطرت اور انسانی آزادی کا وکیل تھا، اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا معمار جس نے سینما کو ایک تحریک کا روپ دیا جی ہاں! یہ لیجنڈری شخصیت رابرٹ ریڈ فورڈ ہیں۔

 جن کا نام آتے ہی ذہن میں ہالی وڈ کے سنہری عہد کی وہ روشن تصویر ابھرتی ہے، جس میں ایک طرف فلم ایک خواب تو دوسری طرف خالص فن تھی۔ غیر روایتی سوچ رکھنے والے اس عظیم انسان نے امریکی سینما کو ایک باقاعدہ تحریک میں بدل دیا۔ 1936ء میں کیلی فورنیا (امریکا) کے شہر سانتا مونیکا میں جنم لینے والا یہ فنکار محض باکس آفس سٹار نہیں تھا بلکہ اس نے آنے والی نسلوں کے لیے ایسی راہیں ہموار کیں جن پر چل کر سینما کے نئے مسافر اپنی آواز دنیا تک پہنچا سکیں۔

ریڈفورڈ نے بیچلر ڈگری کے لیے یونیورسٹی آف کولوراڈو کا انتخاب کیا، پھر یورپ میں آرٹ کی تعلیم اور بالآخر نیویارک کی امریکن اکیڈمی آف ڈرامیٹک آرٹس میں تربیت حاصل کی اور یہ سب اس بات کی خبر دیتے ہیں کہ وہ محض اداکاری نہیں سیکھ رہا تھا بلکہ وہ اپنے دیکھنے، سمجھنے اور بیان کرنے کے زاویے بنا رہا تھا۔

بروڈوے پر معروف امریکی لکھاری نیل سائمن کے کھیل ’’بیئر فوٹ اِن دی پارک‘‘ میں کامیابی نے اس نوجوان کو ایسی شناخت دی، جس نے ہالی وڈ کے در تک پہنچا دیا۔ فلمی دنیا میں قدم رکھتے ہی اس نے جلد ثابت کر دیا کہ وہ خوبصورت ہونے کے ساتھ گہرائی میں اترنے والا اداکار ہے۔1969ء میں پال نیومن کے ساتھ ’’بچ کیسیڈی اینڈ دی سنڈینس کِڈ‘‘ نے اسے سپر سٹار بنا دیا اور یہی وہ کردار تھا جس کے نام پر بعد میں ایک پورا ادارہ، ایک فلمی تہوار، اور ایک تخلیقی فلسفہ (سنڈینس فلم فیسٹیول) تشکیل پایا۔

1970ء کی دہائی ریڈفورڈ کے لیے ’’شہرت اور سنجیدگی‘‘ دونوں کی دہائی تھی۔ دی سٹِنگ (1973ء)، دی وے وی ور (1973)، دی کینڈڈیٹ (1972ء)،جیریمیہ جانسن (1972ء)، ،تھری ڈیز آف دی کونڈور (1975ء) اورآل دی پریذیڈنٹس مین (1976ء)، دی نیچرل (1984ء)، سنی کرز (1992ء)، اِن ڈیسنٹ پروپوزل (1993ء)، سپائے گیم(2001ء)، آل اِز لاسٹ(2013ء) اور کیپٹن امریکہ: دی ونٹر سولجر (2014) نے پوری دنیا میں ان کے فن کی دھاک بٹھا دی۔

1980ء میں ریڈفورڈ نے ایک نئی سمت اختیار کی یعنی وہ کمیرے کے سامنے کے بجائے بطور ہدایت کار پیچھے پہنچ گئے۔ فلم ’’آرڈنری پیپل‘‘ ان کا بطور ہدایت کار پہلا تجربہ تھا جس نے نہ صرف ناظرین کو چونکایا بلکہ اکیڈمی ایوارڈ برائے بہترین ہدایت کار بھی ان کے نام کیا۔ یہ فلم ایک متمول مگر جذباتی طور پر بکھرے گھر کی کہانی ہے، جس میں تراش خراش اور خاموشیوں کے بیچ درد اور امید ساتھ چلتے ہیں۔ ریڈفورڈ کی ہدایت کاری میں اخلاقیات، سادگی اور مضبوط کہانی جیسی نمایاں خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

تاہم اگر کوئی ایک کام ریڈفورڈ کے کریئر کو سب سے زیادہ ممتاز بناتا ہے تو وہ سنڈینس ہے۔ 1969ء میں یوٹا(امریکا) کی وادیوں میں زمین خرید کر انہوں نے ایک چھوٹا سا ریزورٹ بنایا، جسے وہ ‘‘سنڈینس’’ کہنے لگے۔ وہاں سے شروع ہونے والا یہ خواب 1981ء میں ایک باقاعدہ ادارے یعنی سنڈینس انسٹی ٹیوٹ کی صورت اختیار کر گیا، جس کا مقصد واضح تھا یعنی انڈی فلم میکرز کے لیے محض نمائش نہیں، تربیت، رہنمائی اور مکالمہ۔ سکرین رائٹنگ لیبز، ڈائریکٹنگ ورکشاپس، اور پھر فلم فیسٹیول، یہ سب مل کر ایک ایسا ماحولیاتی نظام بن گئے جس نے امریکی آزادانہ سینما کی شکل ہی بدل دی۔

کوئنٹن ٹیرینٹینو کی ریزروائر ڈاگز، سٹیون سوڈربرگ کی سیکس، لائز اینڈ ویڈیو ٹیپ، کوئن برادرز کی بلڈ سمپل، ڈیرن ایرونوفسکی کی ریکوئیم فار اے ڈریم، ڈیمیئن شیزیل کی وِپلَیش اور گیٹ آؤٹ جیسی بے شمار فلمیں سنڈینس کی چھت تلے بنائی گئیں۔ ریڈفورڈ کی بصیرت صرف فلم سازی تک محدود نہیں رہی۔ وہ طویل عرصہ تک ماحولیاتی تحریک کے سرگرم کارکن رہے۔

یوٹا کے پہاڑوں اور کھلی فضاؤں سے ان کی محبت نے انہیں قدرتی وسائل کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات اور مقامی آبادی کے حقوق کی آواز بنائے رکھا۔ اپنے خاندان کے ساتھ انہوں نے ’’دی ریڈفورڈ سینٹر‘‘ کے ذریعے ایسی دستاویزی فلموں اور پروجیکٹس کی سرپرستی کی، جو ماحول اور سماج کے متعلق آگاہی بڑھائیں، پالیسی سازی پر اثر ڈالیں اور عام آدمی تک پیچیدہ موضوعات کو دلکش طریقے سے پہنچائیں۔

یہ سرگرمیاں بتاتی ہیں کہ ریڈفورڈ کے لیے فن صرف ذوق کی تربیت نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری تھی۔ لیجنڈری فن کار و ہدایت کار کے ایوارڈز کی فہرست بھی چھوٹی نہیں،بہترین ہدایت کار کا آسکر، 2002ء کا اعزازی اکیڈمی ایوارڈ، 2005 کے کینیڈی سنٹر آنرز اور 2016ء میں صدر باراک اوباما کے ہاتھوں ملنے والا ’’پریزیڈینشل میڈل آف فریڈم‘‘ یہ سب ریڈفورڈ کی اس اجتماعی خدمات کا اعتراف ہیں جو انہوں نے امریکی ثقافت، آزادیِ اظہار اور ادارہ سازی کے لیے انجام دیں۔

رابرٹ ریڈفورڈ کی ذاتی زندگی کے نشیب و فراز نے ان کی کردار سازی میں نہایت اہم کردار ادا کیا، جوانی میں ماں کے انتقال کا صدمہ، ابتدائی دور میں کم سن بیٹے کی موت اور پھر زندگی کے اواخر میں بیٹے جیمز ریڈفورڈ کے بچھڑ جانے کا دکھ، ان سب واقعات نے ان کے فن میں ایک غیر مرئی سنجیدگی پیدا کی۔

وہ اکثر اپنی زندگی کے بارے میں کم بولتے ہیں، مگر ان کی فلموں کی خاموشیاں، کرداروں کی نگاہیں اور ان کے اداروں کی خدمات یہ کہہ دیتی ہیں کہ انسان اپنے ذاتی دکھوں سے اوپر اٹھ کر بھی دوسروں کے لیے امید کی روشنی بن سکتا ہے۔

9 اگست 1958ء کو لاس ویگاس میں ریڈفورڈ نے امریکن تاریخ دان اور سماجی رہنما لولا وین ویگنن سے شادی کی، یہ رشتہ ایک خاندان میں ڈھلا اور چار بچوں کی صورت میں ثمر آور ہوا (اسکاٹ اینتھنی، شاؤنا جین، ڈیوڈ جیمز اور ایمی ہارٹ) مگر خوشیوں کے اس سفر میں دکھ کا پہلو بھی شامل رہا، اسکاٹ محض ڈھائی ماہ کی عمر میں اچانک موت کا شکار ہوگیا۔ شاؤنا مصوری کے میدان میں اپنی پہچان رکھتی ہیں اور مشہور صحافی ایرک شلوسر کی شریکِ حیات ہیں۔ ڈیوڈ جیمز نے بطور مصنف اور پروڈیوسر شہرت حاصل کی، مگر 2020ء میں کینسر کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے۔

ایمی ہارٹ نے اداکارہ، ہدایت کارہ اور پروڈیوسر کے طور پر ایک منفرد مقام بنایا۔ اس خاندان کی خوشبو سات نواسوں اور نواسیوں کی صورت میں مزید پھیلی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ریڈفورڈ اور لولا نے کبھی اپنی علیحدگی یا طلاق کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تاہم 1982ء میں کالم نگار شرلی ایڈر نے لکھا کہ دونوں کئی برسوں سے ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔ 1984ء میں جب ریڈفورڈ فلم ’’آوٹ آف افریقہ‘‘ کی شوٹنگ میں مصروف تھے، اسی دوران وہ طلاق کے معاملات طے کر رہے تھے۔

کئی برس بعد، 11 جولائی 2009ء کو ریڈفورڈ نے اپنی دیرینہ رفیقہ سبائل زاگارز سے جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں شادی کی۔ سبائل 1996ء میں سنڈینس، یوٹاہ کے ان کے گھر میں منتقل ہوچکی تھیں اور برسوں تک ان کے ساتھ رہیں۔ ریڈفورڈ کی اصل رہائش سنڈینس ریزورٹ، یوٹاہ ہی رہی، لیکن ان کا ایک خوبصورت مکان ٹبیرون، کیلیفورنیا میں بھی تھا، جو 2024ء میں فروخت کردیا گیا۔ اس کے علاوہ وہ سانتا فی، نیو میکسیکو میں بھی ایک جائیداد کے مالک تھے۔

 2018ء میں ہالی وڈ کے لیجنڈ نے بطور اداکار ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا لیکن ریٹائرمنٹ کا مطلب ان کے ہاں تھک جانا نہیں بلکہ سمت بدل لینا ہے۔ وہ مرتے دم تک سنڈینس انسٹی ٹیوٹ اور مختلف فلاحی منصوبوں کے ذریعے نوجوان فلمسازوں کی پیٹھ تھپتھپاتے رہے۔ ریڈفورڈ نے دکھایا کہ اگر ایک سٹار اپنی شہرت کو ادارہ سازی کے لیے وقف کر دے تو ایک نئی دنیا جنم لے سکتی ہے۔ سنڈینس کا ماڈل…جس میں تربیت، رہنمائی، اور آزادانہ بیانیے کو محفوظ جگہ میسر آتی ہے، کسی بھی فلمی دنیا کے لیے مشعلِ راہ بن سکتا ہے۔ ریڈفورڈ کی شخصیت میں ایک خوبصورت تضاد بھی ہے، ایک طرف وہ کلاسیکی سٹار سسٹم کی نمائندگی کرتے ہیں تو دوسری طرف وہ اسی نظام کے باہر کھڑے آزاد بیانیے کے سب سے بڑے مددگار ہیں۔ یہی تضاد انہیں منفرد بناتا ہے۔

عمر کی آخری منزل پر جہاں اکثر سٹارز اپنی ماضی کی چمک کو بیچتے دکھائی دیتے ہیں، ریڈفورڈ نے اپنے ماضی کو مستقبل کے لیے وقف کردیا۔ ان کے انسٹی ٹیوٹ کی لیبز میں آج بھی سپنوں کی آنکھوں والے نوجوان اسکرپٹس لے کر آتے ہیں، اور وہاں انہیں استادوں کے ساتھ ’’بات‘‘ کرنے کا موقع ملتا ہے۔

لہذا رابرٹ ریڈفورڈ کا ورثہ صرف ایوارڈز، ہٹ فلموں یا عالمی اعزازات کا نام نہیں۔ یہ ورثہ ایک اخلاقی پوزیشن ہے کہ فن میں بھی ذمہ داری ہے، شہرت کا بہترین مصرف اس سے آگے کے لیے راستہ کھولنا ہے، ادارہ سازی سٹارڈم سے بڑی چیز ہے اور یہ کہ اچھی کہانی دنیا بدلتی ہے، بشرطیکہ اسے کہنے والوں کو راستہ، تربیت اور حوصلہ میسر آئے۔ آج شوبز کی دنیا کا عظیم رہنما دنیائے فانی سے جا چکا لیکن ان کا نام آنے والے برسوں میں بھی صرف ’’یاد‘‘ نہیں بلکہ ’’استعمال‘‘ بھی کیا جائے گا۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہدایت کار نہیں بلکہ میں ایک کے ساتھ میں بھی کے لیے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف