معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ٹک ٹاکر فاطمہ خان نے یوٹیوبر رجب بٹ پر شادی کا جھوٹا وعدہ کرنے، استحصال کرنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

فاطمہ خان گزشتہ کئی ہفتوں سے رجب بٹ کے خلاف بیانات دے رہی ہیں۔ اور حال ہی میں انہوں نے ایک پوڈکاسٹ میں ایک بار پھر اپنے الزامات دہرائے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: رجب بٹ سمیت 3 یوٹیوبرز کے خلاف جوئے کی تشہیر کے مقدمات درج

ٹک ٹاکر نے الزام لگایا کہ رجب بٹ شراب کے عادی ہیں۔ لڑکیوں کو پھنسانا اور ان کا استعمال کرنا ان کی پرانی عادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رجب بٹ نے مجھ سے تعلق قائم کرنے سے پہلے بھی کئی لڑکیوں کے ساتھ تعلقات رکھے تھے۔

فاطمہ خان نے پوڈ کاسٹ میں مزید بتایا کہ ان کی رجب بٹ سے پہلی ملاقات ایک دوست کے ذریعے ہوئی۔ ان کی دوست نے ان کا تعارف بہن کے طور پر کرایا اور انہیں رجب بٹ سے ملوایا۔ اس وقت رجب بٹ تین مردوں اور تین عورتوں کے ساتھ موجود تھے اور سب جوڑوں کی صورت میں بیٹھے تھے۔

ٹک ٹاکر کے مطابق ان کا رجب بٹ سے تعلق دو مہینے رہا اور اس دوران رجب بٹ نے انہیں قیمتی تحائف دیے جس میں ایک قیمتی گھڑی شامل تھی جس کی قیمت 45  لاکھ روپے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کارروائی کرنی ہے تو پی ایس ایل سے شروع کریں، رجب بٹ ڈکی بھائی کی حمایت میں بول پڑیں

انہوں نے الزام لگایا کہ رجب بٹ نے شادی کا جھانسہ دے کر ان کا استحصال کیا اور کئی بار شراب کے نشے میں ان پر تشدد بھی کیا۔

فاطمہ خان کا کہنا تھا کہ رجب بٹ عورتوں کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ان کے مطابق وہ زیادہ تر وقت گھر سے باہر گزارتے ہیں۔ انہوں نے رجب بٹ پر ہم جنس پرستی کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ وہ اپنی غلط کاریوں میں نہ عمر دیکھتے ہیں اور نہ ہی جنس۔

یہ بھی پڑھیں: ’دعا ہے کہ میری شادی برقرار رہے مگر آپ کی حرکتیں ایسی نہیں‘، رجب بٹ کا اپنے سالے کو دھمکی آمیز پیغام

فاطمہ خان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس رجب بٹ کے خلاف ویڈیوز سمیت ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ رجب بٹ نے ان کی ذاتی ویڈیوز ڈیلیٹ کرنے کی کوشش کی اور اسی دوران انہیں تھپڑ مارا، جس سے ان کے چہرے پر نشان بھی آیا، تاہم وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئیں۔

واضح رہے کہ رجب بٹ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں کوئی صداقت نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ پوڈکاسٹرز اور میڈیا ایسی غیر اہم لڑکیوں کو اہمیت دے رہے ہیں جو جھوٹ پھیلانے میں مصروف ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رجب بٹ رجب بٹ پر الزام فاطمہ خان یو ٹیوبر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: رجب بٹ پر الزام فاطمہ خان یو ٹیوبر کہ رجب بٹ نے فاطمہ خان انہوں نے ٹک ٹاکر

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش