نوجوانوں کے روزگار کیلئے خوشخبری، حکومت نے نئی ایمپلائمنٹ پالیسی منظور کرلی
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
اسلام آباد میں وفاقی کابینہ نے نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اس پالیسی کی تشکیل کی ہدایت دی تھی تاکہ ملک کے نوجوان طبقے کو عملی زندگی میں آگے بڑھنے اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے معاونت فراہم کی جا سکے۔
وزیراعظم آفس کا کہنا ہے کہ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی نوجوانوں کے لیے ایک نیا باب کھولے گی، جس کے تحت روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں ہنر مند افراد کو آگے لانے پر توجہ دی جائے گی۔ یہ اقدام نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح کم کرنے اور انہیں ملکی ترقی میں کردار ادا کرنے کا موقع دینے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اس پالیسی کا باضابطہ اعلان آج کیا جائے گا۔ اس موقع پر وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد پالیسی کے متن اور اہم نکات سے متعلق میڈیا کو تفصیلی بریفنگ دیں گے، تاکہ نوجوانوں اور عوام کو اس کے فوائد سے آگاہ کیا جا سکے۔
یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ حکومت نوجوانوں کی توانائی اور صلاحیتوں کو قومی ترقی کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے، اور انہیں ایسے مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے جو نہ صرف ذاتی بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی مثبت اثرات مرتب کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔