اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+نوائے وقت رپورٹ ) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے آزاد کشمیر میں سیاسی سسٹم کام کر رہا ہے اور اگر ریاست ٹیکس نہیں لے گی تو مراعات اور تنخواہیں کیسے ادا کی جائیں گی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے آزاد کشمیر کے علاقے پلندری میں مختلف جامعات کے ایک ہزار طلباء اور اساتذہ سے گفتگو کی اور ان کے سوالات کے جوابات بھی دئیے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر سے عوامی ایکشن کمیٹی کی توڑ پھوڑ اور انتشاری سیاست پر سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ آزاد کشمیر میں سیاسی سسٹم ہے جو کام کر رہا ہے اور یہاں کے تمام اعشاریے بشمول تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر بہت بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاست ٹیکس نہیں لے گی تو مراعات اور تنخواہیں کیسے دے گی۔ آزاد کشمیر کے 30 فیصد سے زائد لوگ سرکاری ملازم ہیں، احتجاج سب کا حق ہے مگر انتشار سے معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔ احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اللہ نے کشمیر کو بے پناہ نعمتوں سے نوازا ہے۔ پاکستان کا خواب دیکھنے والے کا تعلق بھی کشمیر سے تھا اور آج بھی فوج میں متعدد آفیسرز اور جوان کشمیری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کا مستقبل ‘‘کشمیر بنے کا پاکستان’’ ہے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا سیاست سیاستدانوں کا کام ہے۔ آزاد کشمیر میں مہنگائی کی شرح کم بجلی اور آٹا سستا ہے۔ اگر آپ لوگوں کے مسائل ہیں تو سسٹم میں آئیں‘ بات چیت کریں۔ کشمیر پھل لگا کر پورے خطے کو پھل فراہم کر سکتا ہے۔ کشمیر تو دینے  والا ہاتھ بنے گا‘ کشمیریوں کے ہر مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے طلبہ سے خطاب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر نے کہا

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی