حماس نے منصوبہ رد کیا تو اسرائیل اپنا کام مکمل کرےگا: نیتن یاہو کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
حماس نے منصوبہ رد کیا تو اسرائیل اپنا کام مکمل کرےگا: نیتن یاہو کی دھمکی WhatsAppFacebookTwitter 0 30 September, 2025 سب نیوز
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ٹرمپ کے مجوزہ غزہ جنگ بندی منصوبے کو تسلیم نہ کرنے پر حماس کو دھمکی دے دی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حماس نے منصوبہ رد کیا تو اسرائیل اپنا کام مکمل کرےگا۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ منصوبہ جنگ کے خاتمے سے متعلق اسرائیل کے اصولوں سے مطابقت رکھتاہے اور یہ معاہدہ یقینی بنائےگا کہ غزہ اسرائیل کےلیےکبھی خطرہ نہیں بنےگا۔
گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران مجوزہ غزہ جنگ بندی منصوبے کا اعلان کیاتھا۔
ٹرمپ کی نیتن یاہو کے ہمراہ پریس کانفرنس، مجوزہ غزہ جنگ بندی منصوبے کا اعلان کردیا
ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیےتاریخی دن ہے، خطے میں امن اور استحکام کے لیےکام کریں گے، غزہ امن معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکےہیں، عرب اور مسلم رہنماؤں نے اس منصوبے کی حمایت کی ہے، ترکیے اور انڈونیشیا کے صدور میرے ساتھ ہیں، وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل نے بھی امن معاہدے کی حمایت کی ہے۔
امریکی صدر کاکہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے میرا امن معاہدہ تسلیم کرلیا ہے، اگر حماس معاہدہ مسترد کردے تو اسرائیل کو حماس کے خاتمے کےلیے میری مکمل پشت پناہی حاصل ہوگی۔
علاوہ ازیں مسلم ممالک نے غزہ جنگ بندی سے متعلق ٹرمپ کے مجوزہ منصوبےکی حمایت کی ہے۔
پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے امریکی صدر کی غزہ جنگ بندی کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔
مسلم ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں صدر ٹرمپ کے اس مجوزہ منصوبے کو سراہا گیا جس میں غزہ کی تعمیر نو، فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی روک تھام، جنگ بندی اور ایک جامع امن عمل کو آگے بڑھانے کا اعلان شامل ہے۔
اعلامیے کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ مغربی کنارے کے انضمام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفلسطین میں امن کیلئے مسلم ممالک کی جانب سے ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا خیر مقدم اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید کا دورہ قاہرہ، مصری صدر السیسی سے ملاقات سینئر صحافی کے ساتھ عمران خان کی تلخی کے معاملے پرقومی اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور نیتن یاہو نے دوحہ میں اسرائیلی حملے پر قطر سے معافی مانگ لی اسرائیلی وزیر اعظم وائٹ ہاوس پہنچ گئے؛ ٹرمپ غزہ جنگ بندی معاہدے کیلیے پرامید عمران خان اور بشری بی بی کو اڈیالہ جیل سے خصوصی جیل منتقل کیے جانیکا امکان عورت کی تعلیم، قوم کی ترقیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: تو اسرائیل نیتن یاہو
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔