علی امین گنڈا پور اور عمران خان کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ خان صاحب نے پارٹی میں سب کو متحد ہوکر جدوجہد جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی کے بانی سے تفصیلی ملاقات نتیجہ خیز رہی۔ اُن کا کہنا تھا کہ بانی نے پارٹی میں سب کو متحد ہوکر جدوجہد جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے، بانی نے پارٹی میں اختلافات اور گروہ بندی پیدا کرنے والوں پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ علی امین نے کہا کہ ملاقات میں عمران خان پرعزم نظر آئے، پارٹی معاملات، صوبے میں امن و امان، حکومتی کارکردگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بانی نے باقاعدگی سے ملاقاتیں جاری رکھنے کا اظہار کیا، بانی کی ناراضگی کا اثر ظاہر ہونا شروع ہوگیا، غیر منسلک افراد کو پارٹی امور سے دور رہنے کی ہدایت کردی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امین گنڈا پور کا مزید کہنا تھا کہ بانی کو حکومتی معاملات میں کارکردگی رپورٹ سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بانی نے حکومت کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔