Jasarat News:
2026-06-03@06:20:36 GMT

اسرائیل نواز صحافی کی پاکستان کے رازوں تک رسائی

اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

برصغیر کی تاریخ ایسے بادشاہوں کی کہانی ہے جو بڑی بڑی سلطنت کے وارث تھے مگر خوشامدی درباریوں کے حصار میں حقیقت سے کٹ گئے۔ محمد شاہ رنگیلا کی رنگینیوں نے دہلی کو نادر شاہ کے حوالے کیا۔ شاہ جہان خوشامدی مشوروں کے باعث قید خانے کا قیدی بنا۔ سراج الدولہ غداروں کے نرغے میں پلاسی ہار گیا اور بہادر شاہ ظفر جھوٹی تسلیوں کے سہارے رنگون کی جلاوطنی تک جا پہنچا۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ جو حکمران سچائی سننے کے بجائے درباریوں کی میٹھی باتوں پر یقین کر لے وہ اپنی سلطنت اپنا وقار اور کبھی کبھی اپنی جان تک گنوا دیتا ہے۔ ن لیگ کے پارٹی ’’مالکان‘‘ بھی خوشامد پسندی کے اسی مرض میں مبتلا ہیں۔ بڑے میاں صاحب نے بارہا خوش آمدیوں کو بڑے عہدوں سے نوازا اور پھر انہی کے ہاتھوں اقتدار سے محروم ہو کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے جا پہنچے، مگر ماضی کی غلطیوں سے آج تک کوئی سبق نہ سیکھا۔

وزیراعظم پاکستان کے حالیہ دورۂ امریکا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد بھی کچھ ایسی ہی صورتحال آشکار ہوئی، کیونکہ خوشامد پسند مزاج کے ہاتھوں مجبور بلکہ محصور ہوکر وزیراعظم صاحب نے شمع جونیجو نامی ایک اسرائیل نواز خاتون کو حساس اور انتہائی اہم میٹنگز میں شریک کرلیا، مگر یہ جاننے کی زحمت نہ کی کہ محترمہ ٹویٹر پر کس طرح برسوں سے اسرائیل سے اظہار محبت کرتی چلی آرہی ہیں۔ چنانچہ شمع جونیجو کی اقوام متحدہ اور حساس اجلاسوں میں شمولیت اس امر کا ثبوت ہے کہ ایک اسرائیل نواز صحافی نے صرف خوشامد کے زور پر پاکستان کی اہم معلومات تک رسائی پا لی۔

حکومت کے نزدیک ان کی واحد خوبی یہ ہے کہ وہ عمران خان کی شدید مخالف ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ عمران خان کے ’’سسرائیلیوں‘‘ یعنی اسرائیل کی زبردست حامی بھی ہیں۔ مشکوک کردار کی حامل یہ خاتون ایک طرف عمران خان پر سخت تنقید کرتی ہیں اور دوسری طرف انہی کے بچوں کی ماں، یعنی سابقہ اہلیہ جمائما خان کے ساتھ تصاویر بنا کر دوستی کا دم بھرتی ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والے ایسے لوگ دراصل کسی ایجنڈے پر ہی کام کر رہے ہوتے ہیں۔ گویا مذکورہ خاتون نے بظاہر عمران خان کی مخالفت کو سہارا بنا کر پہلے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے رہنماؤں سے ٹویٹر پر قربت حاصل کی۔ پھر وہ اس مقام تک پہنچ گئیں جہاں تک پہنچنا ان کا اصل مشن تھا۔ اب عالم یہ ہے کہ جب سارا معاملہ کھلا تو وزارت خارجہ بغلیں جھانک رہی ہے۔ لندن کے چرچل ہوٹل میں شمع جونیجو کی خود نمائی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے الارم بجنے کے بعد اہم فائلیں اٹھانے کا ڈراما سوشل میڈیا پر لکھا اور ساتھ ہی خود کو وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر کا رائٹر قرار دیا۔ مگر سب سے واحیات بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر صحافی عمر چیمہ یہ کہہ کر شمع کا دفاع کررہے ہیں کہ اس کی پرانی ٹویٹس کو جواز بنا کر شمع جونیجو پر بلا جواز تنقید ہورہی ہے۔ ادھر محترمہ کی ہٹ دھرمی بھی بے مثال ہے وہ سوشل میڈیا پر یہ تو ثابت کررہی ہیں کہ ان کو وزیراعظم پاکستان کے آفس نے وفد میں شامل کیا تھا۔ مگر اسرائیل کے حق میں کیے گئے اپنے متعدد ٹویٹس اور اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کی خواہش پر کسی شرمندگی یا ندامت کا اظہار انہوں نے اب تک نہیں کیا۔

سوال یہ ہے کہ ایک اسرائیل نواز خاتون کس طرح پاکستان کی انتہائی حساس اور اہم میٹنگز کا حصہ بن گئی۔ اور پھر وزیراعظم کے طیارے میں بیٹھ کر اقوام متحدہ جا پہنچی۔ کیا اس سنگین غفلت کے مرتکب افراد کا محاسبہ ہوگا یا ہمیشہ کی طرح مٹی پائو پالیسی کے تحت معاملہ دب جائے گا۔

اصل کہانی یہ ہے کہ ٹویٹر اکاؤنٹ سے موصوفہ نے لندن میں ن لیگ کے عہدیداران سے تعلقات بڑھائے اور پھر مریم نواز اور نواز شریف سے ملاقاتیں کیں۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے لیے ان کی محبت بھری ٹویٹس نے انہیں تمغہ امتیاز تک کا حقدار بنا دیا۔ ویسے بھی آج کل ن لیگ اور بالخصوص پیپلز پارٹی اپنے ہر اس اوورسیز کارکن کو تمغہ امتیاز دے رہی ہے جس نے چند سو پاؤنڈ پارٹی فنڈ میں ڈال دیے ہوں۔ اور ایسے جیالوں کو تمغہ امتیاز ملتے دیکھ کر برطانیہ میں پاکستان کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دینے والے پاکستانی کلمہ شکر ادا کرتے ہیں کہ ان کو اس اعزاز کے لیے نامزد نہیں کیا گیا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ موروثی جماعتوں میں مشاورت کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ پارٹی سربراہ کی خواہش کے خلاف کوئی رائے دینا اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ لہٰذا جی حضوری کے سہارے ہی موروثیت کی سرکار چلتی ہے۔ اب اگر ن لیگ کے قائد اور ان کی صاحبزادی کے ساتھ کوئی خاتون تصویر بنوالے اور پارٹی سربراہ اسے کسی عہدے کے لیے پرچی دے دے تو پھر کون جرأت کرے گا کہ بادشاہ سلامت کے حکم کو رد کرے۔ یہی معاملہ اس قضیے میں بھی نظر آتا ہے۔

وزیراعظم کے کامیاب دورے کے بعد ان کے خطاب میں قرآن کریم کی تلاوت پر داد و تحسین ہونی چاہیے تھی۔ ہندوستان کے خلاف دوٹوک مؤقف، غزہ اور کشمیر کا مقدمہ، ماحولیات اور پاکستانی مسائل کو جرأت کے ساتھ اجاگر کرنے پر انہیں بھرپور شاباش ملتی۔ مگر افسوس کہ ان کے خطاب کے بجائے ایک اسرائیل نواز خاتون موضوعِ بحث بن گئیں۔ اس صورتحال سے یہ سبق  ملتا ہے کہ اگر آئندہ بھی ہماری بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنی صفوں میں مشاورت سے گریز اور خوشامد و آمریت کو دوام دینے کا رویہ جاری رکھا تو پھر رسوائی کا سامان پیدا کرنے والے ایسے واقعات بھی تسلسل کے ساتھ رونما ہوتے رہیں گے۔

خامہ انگشت بدنداں کہ اسے کیا لکھیے

ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے

 

عبید مغل.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایک اسرائیل نواز اقوام متحدہ پاکستان کے ن لیگ کے یہ ہے کہ کے ساتھ کے لیے ہیں کہ

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ