اپنے بیان میں سیکرٹری جنرل پی ایس ٹی نے کہا کہ دنیا بھر میں کیے جانے والے اسرائیل کے خلاف مظاہرے اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں عوامی رائے فلسطینیوں کے حق میں ہے، امریکہ کینیڈا برطانیہ جرمنی فرانس اور مشرق وسطی اور دیگر ایشیائی ممالک میں بھی اسرائیل کے خلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل کی جانب سے کیے گئے اقدامات بہت عرصے سے نسل کشی کے زمرے میں آرہے ہیں اور عالمی عدالت انصاف اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی جانب سے بھی بات ہو رہی ہے پھر بھی اسرائیلی اقدامات کو منظم تشدد تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان سنی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل صاحبزادہ علامہ بلال سلیم قادری شامی نے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک میں عوام سڑکوں پر نکل کر اسرائیل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے، مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی فوری طور پر بند کی جائے اور یورپی یونین سمیت دیگر عالمی طاقتیں اسرائیل پر سخت پابندیاں عائد کریں، مظاہرین فلسطینی جھنڈے اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے اسرائیلی جارحیت کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اس کے اقدامات طویل عرصے سے نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں، عالمی عدالت انصاف اور دیگر بین الاقوامی ادارے بھی اس مسئلے پر بات کر چکے ہیں لیکن اسرائیلی ریاست کے مظالم کو اب تک باضابطہ طور پر منظم تشدد یا نسل کشی تسلیم نہیں کیا گیا۔ بلال سلیم قادری کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف کیے جانے والے مظاہرے کے شرکا عالمی برادری سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے فوری اور مثر اقدامات کرے، جب تک عالمی طاقتیں اور سپر پاور اسرائیل پر سخت پابندیاں نہیں لگائے گا اسرائیل مظلوموں کا خون بہانے سے نہیں رکے گا، دنیا بھر میں کیے جانے والے اسرائیل کے خلاف مظاہرے اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں عوامی رائے فلسطینیوں کے حق میں ہے، امریکہ کینیڈا برطانیہ جرمنی فرانس اور مشرق وسطی اور دیگر ایشیائی ممالک میں بھی اسرائیل کے خلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیل کے خلاف مظاہرے دنیا بھر میں اور دیگر رہے ہیں بھی اس

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم