Islam Times:
2026-07-24@05:52:51 GMT

غزہ امن منصوبہ اور ہم

اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT

غزہ امن منصوبہ اور ہم

اسلام ٹائمز: ہم اپنے قارئین پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر پاکستان، فلسطینی قوم کی مرضی کے خلاف کسی ایسے منصوبے کی حمایت کرتا ہے، جو درحقیقت اسرائیل کی توسیع کا منصوبہ ہے تو اس حمایت کے پیچھے کسی قسم کی نظریاتی ہم آہنگی نہیں بلکہ واضح طور پر ایک سیاسی و سفارتی سرنڈر ہے۔ پراکسی ہونا صرف فوجی محاذ پر دوسرے کے مفاد کے لیے لڑنا نہیں ہوتا بلکہ وہ لمحہ جب کوئی ریاست اپنی خود مختار سفارتی زبان کھو دے اور اس کے سیاستدان اور قلم کار اپنے قومی نظریات کے خلاف بولنا اور لکھنا شروع کر دیں تو یہی پراکسی ڈپلومیسی کا چہرہ ہوتا ہے۔ کیا غزہ امن منصوبے کی حمایت کرکے اس وقت ہم بطورِ اسرائیلی پراکسی کام نہیں کر رہے۔؟ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے زیرِ اثر پیش کیا گیا غزہ امن منصوبہ ہمارے وزیرِاعظم صاحب نے شاید دیکھا تک نہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبہ عدل و انصاف کے اصولوں پر مبنی ہے یا اسے فلسطینیوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔؟ بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں اگر اس منصوبے کا جائزہ لیا جائے تو یہ فوری جنگ بندی یا انسانی امداد کی فراہمی کے بجائے فقط اسرائیل کی جغرافیائی اور سیاسی بالادستی کو تحفظ دیتا ہے۔ یعنی یہ دراصل اسرائیل کے عسکری و سیاسی اثرورسوخ کی تنظیمِ نو کا فارمولہ ہے۔ کیا ہمارے وزیراعظم صاحب کو اس کا ادراک ہے کہ فلسطینی قیادت اور عوام کو اس منصوبے کی تشکیل اور اس پر گفت و شنید کے عمل سے مکمل طور پر خارج رکھا گیا ہے۔؟ فلسطینی قیادت اور عوام کو اس منصوبے سے الگ تھلگ رکھنے سے اس منصوبے کی کوئی قانونی حیثیت اور اخلاقی جواز ہی باقی نہیں رہتا کہ جس کی بنیاد پر اس کی حمایت کی جا سکے۔

اس کی ایک اور اہم خامی یہ ہے کہ اس  میں اسرائیل کے غلبے کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے ہر طرح کا تحفظ بھی دیا گیا ہے۔ اسرائیل کی سکیورٹی فورسز، دفاعی حدود اور علاقائی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت، جغرافیائی وحدت اور ریاستی سالمیت کی عملاً نفی کر دی گئی ہے۔ بلاشبہ یہ منصوبہ اصولوں اور انصاف کے بجائے طاقت اور دھونس کا مظہر ہے۔ اس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے حقِ واپسی کو نظر انداز کرنا، فلسطینی علاقوں کو الگ الگ انتظامی اکائیوں میں تقسیم رکھنا اور فلسطینی ریاست کی تشکیل کے عمل کو عملی سطح پر غیر یقینی بنا دینا۔۔۔ یوں یہ منصوبہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی عالمی روایات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

ایسے میں پاکستان کی جانب سے اس منصوبے کی حمایت کا عمل کئی سیاسی، قانونی اور اخلاقی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس منصوبے میں فلسطینی قیادت کی عدمِ شمولیت، فلسطینی مہاجرین کی واپسی کی نفی اور فلسطین کی تقسیم کا پہلو ہی اس منصوبے کے بطلان کیلئے کافی ہے۔ دوسری طرف پاکستان ہی ایک ایسا ملک ہے، جو تاریخ میں ہمیشہ فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کا حامی رہا، جس نے اقوامِ متحدہ میں ان کے حق میں آواز اٹھائی، جس کے عوام فلسطینی جدوجہد سے جذباتی و نظریاتی وابستگی رکھتے ہیں، وہ اگر اچانک کسی ایسے منصوبے کی غیر مشروط تائید کرتا نظر آئے، جسے خود فلسطینی مسترد کرچکے ہوں، تو یہ غیر مشروط تائید کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پاکستان فلسطین کے معاملے میں کسی کرائے کے مزدور کی مانند اسرائیل کی ایک پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے۔

پراکسی ڈپلومیسی کا مطلب ہی یہی ہے کہ اس میں ریاستیں اپنی خارجہ حکمت عملی کسی تیسرے فریق کے دباؤ، اثر یا مفاد کے تابع تشکیل دیتی ہیں۔ ان کا موقف ریاستی اصولوں، قومی نظریات اور جمہوری رجحانات کے منافی ہوتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس منصوبے کی تائید خود پاکستانیوں کیلئے ایک بڑا اسوال ہے، خاص طور پر جب پاکستان کو خلیجی ممالک اور امریکہ جیسے اتحادیوں نے تعلقات و مفادات کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ اربابِ اختیار کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ ایسا طرزِ عمل کئی سطحوں پر پاکستان کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔ اوّل، اس سے پاکستان کی وہ اخلاقی برتری مجروح ہوتی ہے، جو اس نے ہمیشہ مظلوم اقوام کے حق میں اختیار کی۔ دوم، خارجہ پالیسی کی خود مختاری متاثر ہوتی ہے اور یہ واضح ہو جائے گا کہ پاکستان سفارتکاری میں بھی دوسروں کی ایک پراکسی ہے۔ سوم، ریاست اور  عوام کے درمیان خلیج مزید گہری ہوگی اور ریاست پر عوام کے اعتماد میں مزید کمی آئے گی۔

ظاہر ہے کہ فلسطین کے مسئلے پر عوام کا اجتماعی ضمیر جس مؤقف کی توقع کرتا ہے، ریاست اس سے منحرف دکھائی دے رہی ہے۔ اسی عمل کو پراکسی سفارتکاری کہتے ہیں۔ اس میں ایک ریاست خود مختار پالیسی سازی کے بجائے، ثالث یا سرپرست ریاست کے ایجنڈے کو اپناتی ہے۔ غزہ امن منصوبہ ایک ایسے سفارتی فریم ورک کی علامت ہے، جو بکھرتے ہوئے اسرائیل کو دوبارہ جوڑنے کیلئے ہے۔ اس منصوبے میں وہ تمام عناصر شامل ہیں، جو کسی فوری جنگ بندی کو ممکن  بنانے کے بجائے صرف اسرائیل کو بچانے کیلئے فکرمند ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں وقتی سفارتی مصلحتوں کے بجائے اصولی وابستگی، تاریخی موقف اور عوامی جذبات کو ترجیح دے، تاکہ اس کی سفارت کاری خود مختار ہو اور باوقار  نظر آئے۔

کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ جب قومیں اصولوں و نظریات کی بنیاد پر اپنی راہیں متعین کرتی ہیں تو وہ صرف سیاسی پالیسی نہیں بناتیں بلکہ تاریخ میں اپنے اخلاقی نقوش بھی مرتب کرتی ہیں۔ اس کے برعکس جب یہی قومیں وقت کی گردش، خارجی دباؤ، یا داخلی کمزوریوں کے تحت اپنے اصولوں اور نظریات سے انحراف کرتی ہیں تو تاریخ میں اُن کے کردار کے اندر ایک گہری منفی تبدیلی واقع ہوتی ہے، جسے "نارم شیفٹ" کہا جاتا ہے۔ یہ وہ عمل ہوتا ہے کہ جس کے دوران نظریہ مصلحت میں تحلیل ہو جاتا ہے اور نظریات عارضی فائدے کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ یہ تبدیلی محض سفارتی زبان یا سرکاری بیانیے میں نہیں آتی بلکہ قوم کے تشخص کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے، ایسی دیمک جو وقت کے ساتھ ساتھ قومی شناخت، اخلاق اور وژن کے مفاہیم کو کھا جاتی ہے۔ اسی کو سفارتی و نظریاتی کہتے ہیں، چونکہ اس کے دوران ماضی کا "حق" حال کے عارضی "مفاد" میں دفن ہو جاتا ہے۔

یاد رہے کہ قومیں اکثر اپنی شکست میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اصولوں سے دستبرداری کے لمحے میں کھاتی ہیں اور یہی وہ لمحہ ہے، جب نظریاتی کمزوری کو ریاستی پالیسی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ آخر میں ہم اپنے قارئین پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر پاکستان، فلسطینی قوم کی مرضی کے خلاف کسی ایسے منصوبے کی حمایت کرتا ہے، جو درحقیقت اسرائیل کی توسیع کا منصوبہ ہے تو اس حمایت کے پیچھے کسی قسم کی نظریاتی ہم آہنگی نہیں بلکہ واضح طور پر ایک سیاسی و سفارتی سرنڈر ہے۔ پراکسی ہونا صرف فوجی محاذ پر دوسرے کے مفاد کے لیے لڑنا نہیں ہوتا بلکہ وہ لمحہ جب کوئی ریاست اپنی خودمختار سفارتی زبان کھو دے اور اس کے سیاست دان اور  قلم کار اپنے قومی نظریات کے خلاف بولنا اور لکھنا شروع کر دیں تو یہی پراکسی ڈپلومیسی کا چہرہ ہوتا ہے۔ کیا غزہ امن منصوبے کی حمایت کرکے اس وقت ہم بطورِ اسرائیلی پراکسی کام نہیں کر رہے۔؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: منصوبے کی حمایت اس منصوبے کی پاکستان کی اسرائیل کی کے بجائے جاتا ہے ہوتا ہے کے خلاف

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم