سی سی ڈی بنائی، خواتین سے زیادتی کے واقعات کا فیصلہ 24 گھنٹے میں ہوتا ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے چکوال میں ہونہار اسکالرشپس اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وظائف حاصل کرنے پر طلبا کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ آپ کا حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے سال ہم نے 30 ہزار ہونہار اسکالرشپس دیں، اس سال 50 ہزار اور اب 80 ہزار تک لے جائیں گے، میری بھی 2 بیٹیاں ہیں اور میں روایتی گھر سے تعلق رکھتی ہوں، ایسے گھر سے کسی خاتون کا اس عہدے تک پہنچنا آسان نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیے: دو سال میں 3200 بند اسکول فعال کیے گئے، وزیر اعلیٰ بلوچستان
وزیراعلیٰ نے کہا کہ شروع میں مجھے سیاست سے دلچسپی نہیں تھی، 2011 میں سیاست میں آیا اور 2014 مین الیکشن لڑا، میرے والد پر مشکلات آئیں تو بیٹی کی حیثیت سے والد کا ساتھ دیا جس پر 2 دفعہ بےقصور جیل جانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ عہدے پہ آیا تو پنجاب میں جرائم کا راج تھا، سی سی ڈی بنانے کے بعد اب اکثر علاقوں میں جرائم نہیں ہوتے، خواتین سے زیادتی پر 24 گھنٹے کے اندر اندر فیصلہ ہوتا ہے، پنجاب کو خواتین کے لیے محفوظ بنانا چاہتی ہوں۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں ’نیفے میں پستول چلنے‘ کے بڑھتے واقعات، عوام اور ماہرین قانون کیا کہتے ہیں؟
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی بھی کام میں سفارش منظور نہیں کرتا، اسی طرح اسکالرشپس اور لیپ ٹاپس کی تقسیم بھی 100 فیصد اہلیت پر ہورہی ہے، دوسرے صوبوں سے بھی لیپ ٹاپس کی درخواستیں آتی ہیں، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بچوں کو بھی لیپ ٹاپس دیں گے۔ پنجاب میں 10 لاکھ بچوں کو مفت دودھ کا پیکٹ ملتا ہے، پنجاب کے اسکولوں میں روبوٹک سائنس اور مصنوعی ذہانت پڑھا رہے ہیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ جس کو سڑکیں، لیپ ٹاپ، سستی روٹی اور اچھی ٹراسنپورٹ نہیں ملتی اس کو اپنے حکمران سے سوال کرنا چاہیے، پنجاب میں ایک سال سے آٹے کی قیمت نہیں بڑھی، وزرا کا کام ٹھنڈے دفتروں میں بیٹھنا نہیں بلکہ مشکل وقت میں عوام کے ساتھ ہونا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسکالرشپس خواتین سی سی ڈی لیپ ٹاپ مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکالرشپس خواتین سی سی ڈی لیپ ٹاپ مریم نواز مریم نواز نے کہا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے