ٹرمپ پلان، سعودی و فرانسیسی سفارتکاری، دنیا کی یکجہتی، فلسطین کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
تاریخ کے ورق خون سے لکھے جاتے ہیں اور خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ فلسطین کی زمین 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے لہو میں نہائی کھڑی ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک 66 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور 17 ہزار کے قریب زخمی ہیں۔ یہ محض اعداد نہیں، یہ انسانیت کے ضمیر پر لگے وہ داغ ہیں جو رہتی دنیا تک سوال بن کر بار بار ابھرتے رہیں گے۔
ایسے میں ڈونلڈ ٹرمپ ایک منصوبہ لے کر آتے ہیں، جسے وہ امن کا جامع حل گردان رہے ہیں لیکن کیا امن اس خاموشی کا نام ہے جس میں بندوقیں سو جائیں یا اس صدا کا جو انصاف کو زبان دے کر دلوں میں گونجنے لگے؟
منصوبے کی تفصیلات سب کے سامنے ہیں: اسرائیلی فوج مرحلہ وار پیچھے ہٹے گی، یرغمالیوں اور لاشوں کا تبادلہ ہوگا، غزہ کو غیر مسلح علاقہ قرار دیا جائے گا اور ایک ٹیکنوکریٹ حکومت عالمی سرپرستی میں قائم ہوگی۔ امداد آئے گی، تعمیر نو ہوگی اور سرمایہ کاری کے لیے ایک خصوصی زون بنایا جائے گا۔
یہ سب بظاہر خوشنما لگتا ہے مگر تاریخ کی عدالت ہمیشہ یہ فیصلہ سناتی آئی ہے کہ طاقتور کو تحفظ دیا جاتا ہے اور کمزور کو صبر کی تلقین۔ اسی طرح فلسطینیوں سے ریاست کا وعدہ مؤخر ہے، جیسے کشمیریوں کو دہائیوں سے خوابوں اور قراردادوں کے حصار میں قید رکھا گیا ہے۔
فلسطین کے مسئلے پر ستمبر 2025 میں سعودی عرب اور فرانس نے ایک نیا رخ متعین کیا۔ اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ان کی مشترکہ آواز نے یہ بتا دیا کہ اب وقت بدل رہا ہے۔ فرانس جیسے مغربی ملک کا فلسطین کے ساتھ کھڑا ہونا اس حقیقت کا اعلان ہے کہ یہ مسئلہ اب محض خطے کا نہیں، بلکہ عالمی ضمیر کا ہے۔
سعودی قیادت کا واضح موقف اور فرانس کا تعاون دنیا کو یہ باور کراتا ہے کہ امن کا مطلب صرف جنگ بندی نہیں بلکہ ریاست کا قیام ہے۔ یہ دونوں ملک گویا دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ فلسطینیوں کو ان کے خون کی قیمت پر محض تعمیر نو نہ دی جائے بلکہ ان کا وطن دیا جائے۔
پاکستان بھی اس جدوجہد کی صفِ اول میں ہے۔ فلسطین ہو یا کشمیر، پاکستان نے ہر عالمی فورم پر یہ کہا ہے کہ ظلم کے مقابلے میں خاموشی امن نہیں بلکہ جبر ہے۔ پاکستانی قیادت نے فلسطین کے ساتھ اپنی وابستگی کو کشمیر کی کہانی کے ساتھ جوڑ کر دنیا کو سمجھایا ہے کہ دونوں مسائل ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔
جہاں طاقتور اپنے جبر کو قانون کا لبادہ پہناتا ہے، وہاں کمزور اپنی آزادی کے لیے نسلوں کی قربانی دیتا ہے۔ پاکستان کا یہ موقف اس منصوبے کی سب سے بڑی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے: انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں۔
مسلم دنیا کی اجتماعی آواز بھی کمزور نہیں رہی۔ مختلف ریاستوں نے اپنے اپنے انداز میں فلسطینی عوام کی حمایت کی ہے اور عالمی رائے عامہ کو جھنجھوڑا ہے۔ یہ آواز ایک وحدت میں ڈھل جائے تو دنیا کو پیغام ملے گا کہ فلسطین کا مسئلہ امداد یا معیشت سے حل نہیں ہوگا بلکہ ریاست سے حل ہوگا۔ اور اگر یہ ریاست نہ دی گئی تو یہ جنگ بندی بھی ایک نئے دھماکے کی ہی تمہید ہوگی۔
اور مغرب کے عوام؟ وہ بھی اس کہانی کے ایک اہم کردار ہیں۔ لندن، پیرس، نیویارک، برلن، ان شہروں کی گلیوں میں لاکھوں لوگ فلسطینی پرچم تھام کر اپنی حکومتوں سے سوال کرتے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ امن صرف اس وقت معتبر ہوگا جب انصاف کے ساتھ جڑا ہوگا۔ یہ مغربی عوام دراصل فلسطین کی زبان بن گئے ہیں اور ان کی آواز مغرب کے ایوانوں میں گونج بن کر پہنچتی رہی ہے۔
اب سوال یہی ہے کہ ٹرمپ پلان کو تاریخ کس نظر سے دیکھے گی؟ کیا یہ فلسطینیوں کو ان کا کھویا ہوا حق دے گا یا انہیں ایک بار پھر وقتی سکون کے وعدے پر چھوڑ دے گا؟ اگر امن تعمیرِ نو کے منصوبوں، بجلی اور پانی کی فراہمی، یا اقتصادی زون کے قیام تک محدود رہا تو یہ تاریخ کے ساتھ ایک اور مذاق ہوگا۔ لیکن اگر دنیا نے سعودی عرب اور فرانس کی حالیہ کاوشوں کو بنیاد بنا کر، پاکستان کی مستقل جدوجہد کو سہارا بنا کر، مسلم دنیا کی اجتماعی آواز کو متحد کر کے، اور مغربی عوام کی بیداری کو ساتھ ملا کر فلسطینی ریاست کے قیام کی سمت بڑھایا، تو یہ تاریخ کا نیا باب ہوگا۔
تاریخ بڑی بے رحم ہے۔ وہ معاہدوں کے متن کو نہیں دیکھتی، وہ قوموں کی تقدیر کو دیکھتی ہے۔ اگر فلسطینوں کو اس بار بھی ان کا وطن نہ ملا تو یہ معاہدہ بھی ماضی کے کاغذوں میں دفن ہو جائے گا اور اگر انصاف اس کے مرکز میں رکھا گیا تو آنے والی نسلیں کہیں گی کہ یہی وہ لمحہ تھا جب دنیا نے امن کو سودا نہیں بلکہ تاریخ کا فیصلہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امن معاہدہ ٹرمپ پلان غزہ فلسطین فلسطینی ریاست.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امن معاہدہ ٹرمپ پلان فلسطین فلسطینی ریاست دنیا کو کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔