Express News:
2026-07-24@06:32:06 GMT

دنیا میں پاکستان کی عزت وتکریم میں اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT

یہ میرے مولا کا کرم ہی نہیں ہے تو اورکیا ہے کہ چند مہینے قبل ہمارے ملک اور ہماری قوم کی کیا حالت زار تھی اور آج کیسی بدل چکی ہے۔ ہم اسے قدرت کا کرشمہ اور معجزہ ہی کہیں گے کہ جو ملک دیوالیہ ہوجانے کی حدوں کو چھو رہا تھا اور ایک ناکام ریاست سمجھا جا رہا تھا۔

دنیا کی قومیں اسے کوئی وقعت دینے کو تیار ہی نہ تھیں، اچانک کیسے اتنا سرخرو ہوگیا کہ سب کی نظریں ہماری طرف متوجہ ہوگئی۔ ہم ایک ایسی باعزت قوم کے طور پر ابھر کر سامنے آگئے کہ امریکا جیسا ملک بھی ہمیں بھارت کے مقابلے میں فوقیت دینے پر مجبور ہوگیا۔ یہ سب اتنا اچانک اور یکدم ہوا کہ ہم خود بھی اپنی اس کامیابی پر حیران رہ گئے۔ مئی کے مہینے میں بھارت کے نریندر مودی نے ہمیں کمزور اور تباہ شدہ قوم سمجھ کر ایک ایسی سفاکانہ غلطی کردی جو آج اس کے گلے کا پھندہ بن چکی ہے۔

پہلگام واقعہ کو دہشت گردی کا بہانہ بنا کر اس نے ہم پر جارحیت کا جو وار کر ڈالا، اس نے خود اس کے منہ پرکالک مل دی۔ دنیا اس کے الزامات پر یقین کرنے کو تیار نہ ہوئی اور حسن اتفاق سے ہماری پاک افواج کی جوابی کارروائی نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا۔ تین روز تک پاکستان صبر سے اس کے حملے برداشت کرتا رہا لیکن پھر ہمارا صبر بھی لبریز ہوگیا اور ہم نے چند لمحوں میں اسے چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا۔ اس کا سارا مواصلاتی نظام منجمد کردیا اور اس کا ریلوے سسٹم بھی معطل کردیا۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں ہم نے اپنی قابلیت اور مہارت کا لوہا منوا کے ساری دنیا کو حیران و ششدر کردیا۔

امریکا ہماری اس مہارت کا نہ صرف معترف ہوگیا بلکہ داد تحسین بھی دینے لگا۔ ہمارے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرکا وہ اتنا فریفتہ اور پرستار ہوگیا کہ ہر تقریب میں وہ ان کے گن گانے لگا۔ جس قوم کو دنیا بھارت کے مقابلے میں ایک انتہائی کمزور قوم سمجھ رہی تھی وہ خلاف توقع اتنی قابل اور باصلاحیت ہو کر اور ابھر کر سامنے آگئی کہ کسی کو یقین بھی نہیں ہو رہا۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کا ہر ملک ہمیں ایک باعزت قوم کے طور پر ہماری تعظیم کرنے پر مجبور ہوچکا ہے۔

ساتھ ہی ساتھ ہمارے موجودہ وزیراعظم کی سفارتی محاذ پرکی جانے والی کامیاب کوششوں نے بھی ہمارا بحیثیت ایک قوم ایک بہت ہی اچھا تاثر اور امیج پیدا کردیا ہے۔ وزیراعظم نے جس دن سے دوسری بار اپنے اس منصب کا حلف اُٹھایا ہے، ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھے ہیں۔ اُن کی سفارتی محاذ پر لڑی جانے والی جنگ نے بھی بھارت کے نریندر مودی کو عبرت ناک شکست دیدی ہے، وہ اب اس قابل بھی نہیں رہا کہ کسی ملک میں جا کر اپنی خفت اور خجالت مٹا سکے۔ اسے اگلے الیکشن میں اپنی شکست کا خوف بھی لاحق ہونے لگا ہے اور اسے سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ کس طرح اپنی قوم کو اپنی ان ناکامیوں کی توجیح پیش کرسکے۔

ہمارے وزیراعظم کا جس طرح سعودی عرب اورامریکا میں استقبال کیا گیا ہے وہ بھی اس کی نیندیں اُڑا دینے کے لیے کافی ہے، وہ جس ٹرمپ کو اپنا خیر خواہ اور دوست سمجھ رہا تھا اسی ٹرمپ نے اب اسے یکسر نظر اندازکردیا ہے بلکہ اس پر پچاس فیصد ٹیرف لگا کر اسے مزید مشکل میں ڈال دیا ہے۔ جو کچھ آج سے پہلے پاکستان کے ساتھ کیا جاتا تھا، آج بھارت کے ساتھ ہو رہا ہے۔ پاکستان اپنی اسلامی شناخت کی وجہ سے ہمیشہ غیر مسلم طاقتوں کے عتاب میں رہا ہے۔ اس پر ہمیشہ کوئی نہ کوئی قدغنیں لگتی رہی ہیں۔کبھی سی ٹی بی ٹی،کبھی FATF اورکبھی دہشت گرد ممالک کی فہرست میں شامل کر کے ہمارا معاشی استحصال کیا جاتا رہا ہے۔

ہمارا نیوکلیئر پروگرام بھی عالمی طاقتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا ہے جب کہ بھارت کو ایسی کسی مشکل کا سامنا نہیں تھا۔ ہمارا سی پیک منصوبہ بھی سب سے زیادہ امریکا کو ناپسند رہا ہے مگر خدا کا شکر ہے کہ آج یہ سب مشکلیں دور ہوچکی ہیں۔ دو سال پہلے ہمارے یہاں کے ایک سیاسی گروہ اور فریق کے مطالبے پر ہم نے بھی روس سے تیل خریدنے کے معاہدے کر لیے لیکن اُن پر عمل درآمد شاید اس لیے نہ ہوسکا کہ اس خام تیل کو ریفائن کرنے میں ہمیں مشکلات درپیش تھیں۔

یہ ہمارے لیے نقصان کے بجائے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا، ورنہ آج ہم بھی بھارت کی طرح ٹیرف کی پابندیوں کا شکار ہو رہے ہوتے۔ روس سے سستا تیل نہ خریدنے پر ہماری اس حکومت کو مخالفوں کی جانب سے تنقید کاسامنا بھی رہا لیکن یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مہربانی رہی کہ ہماری حکومت اس دباؤ میں نہیں آئی، ورنہ آج امریکا کے ساتھ ساتھ سعودی عرب بھی ہم سے ناراض ہوچکا ہوتا۔ سعودی عرب ہمارا ہمیشہ ایک قابل اعتماد دوست رہا ہے ۔ اس نے ہر مشکل وقت میں ہماری مدد کی ہے ۔ ہم اس کی ناراضی کے متحمل ہرگز نہیں ہوسکتے ہیں۔ عمرانی دور میں ایک مہم بھی چلائی گئی کہ ہم سعودی عرب کی دوستی اور مہربانیوں کے بنا ء بھی جی سکتے ہیں۔

یہ سوچ ملک دشمنی کا شاخسانہ ہوسکتی تھی۔ اسی طرح سعودی عرب کو ناراض کرنے کے اس دور میں اور بھی کام کیے گئے اور خان صاحب کی تجویز پر ترکی، ملائیشیا اور پاکستان پر مبنی تین ممالک کی ایک الگ فیڈریشن بنانے کا پلان بنایا گیا جو شو مئی قسمت سے قابل عمل نہ ہوسکا۔ ورنہ آج ہم جس سعودی عرب اور پاکستان کے معاہدے پر سرشار ہورہے ہیں وہ بھی ممکن نہ ہوپاتا۔ خان صاحب کے چار سالہ دور میں ملک کو سفارتی طور پر تنہا اور اکیلا کرنے کی جو کوششیں کی گئی اس نے ہمیں تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کردیا۔

کہنے کو وہ دعوے ہماری خود مختاری اور آزادی کے دلفریب نعروں سے مزین تھے اور قوم کے احساسات کو ہوا دینے کے مترادف بھی تھے لیکن قرضوں میں جکڑی قوم کے لیے وہ نعرے انتہائی مضر ثابت ہوا کرتے ہیں۔ ہمارا تو یہ حال ہے کہ ہمیں اگرکسی غیر ملک کے دورے کے موقعوں پروہاں کے سربراہ کی جانب سے تحفے ملتے ہیںتو ہم انھیں بھی بیچ کھاتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے کتنی شرمساری کی باتیں ہیں کہ تحفہ میں ملنے والی چیزیں کو بھی ہم دبئی جیسے ملک میں فروخت کردیتے ہیں اور وہی چیزیں واپس تحفہ دینے والے کو پہنچ جاتی ہیں۔ کہنے کو یہ چھوٹی چھوٹی سی بدنیتی ہے، لیکن عالمی سطح پر انتہائی رسوائی کا باعث ہیں۔

افسوس کہ بانی پی ٹی آئی نے ایسا کرنے سے پہلے سوچ لیا ہوتا کہ اس غلطی کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ عام زندگی میں بھی ہم کسی کی جانب سے ملنے والے تحفوں کو اس طرح بیچا نہیں کرتے، جب کہ یہ تحفے تو سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر رکھنے کا بھی تقاضہ کرتے ہیں، وہ اگر اُن تحفوں کو استعمال کر لیتے تو شاید کوئی حرج بھی نہ تھا مگر انھیں کسی دوسرے ملک میں بیچ ڈالنا انتہائی چھوٹی سوچ کی غمازی کرتا ہے۔ ایک وزیراعظم کو یہ کسی طرح بھی زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی ایسی حرکت کا متحمل ہوجائے، وہ ان تحفوں کو بھی ورلڈ کپ کی طرح اپنی ذاتی ملکیت تصور کربیٹھے تھے۔

آج خدا خدا کر کے ہم اس دورکی بد نامی سے باہر نکل پائے ہیں۔ آج ہمارے وزیراعظم کا استقبال ریڈ کارپٹ کے بجائے پرپل کارپٹ بچھا کے کیا جارہا ہے ۔ جو عزت و توقیر ہمارے اس وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو مل رہی ہے وہ آج سے پہلے شاید ہی ہمارے کسی اورحکمراں کو ملی ہو۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہو رہا ہے جو حکمرانوں کی نیتوں کو بھی جاننے والا ہے۔ یہ شہباز شریف اور جنرل عاصم منیرکی خلوص نیت کا ثمر ہے کہ ہمارے پاکستان کو آج اتنی عزت و تکریم سے نوازا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارت کے قوم کے رہا ہے بھی ہم

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف