دنیا میں پاکستان کی عزت وتکریم میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
یہ میرے مولا کا کرم ہی نہیں ہے تو اورکیا ہے کہ چند مہینے قبل ہمارے ملک اور ہماری قوم کی کیا حالت زار تھی اور آج کیسی بدل چکی ہے۔ ہم اسے قدرت کا کرشمہ اور معجزہ ہی کہیں گے کہ جو ملک دیوالیہ ہوجانے کی حدوں کو چھو رہا تھا اور ایک ناکام ریاست سمجھا جا رہا تھا۔
دنیا کی قومیں اسے کوئی وقعت دینے کو تیار ہی نہ تھیں، اچانک کیسے اتنا سرخرو ہوگیا کہ سب کی نظریں ہماری طرف متوجہ ہوگئی۔ ہم ایک ایسی باعزت قوم کے طور پر ابھر کر سامنے آگئے کہ امریکا جیسا ملک بھی ہمیں بھارت کے مقابلے میں فوقیت دینے پر مجبور ہوگیا۔ یہ سب اتنا اچانک اور یکدم ہوا کہ ہم خود بھی اپنی اس کامیابی پر حیران رہ گئے۔ مئی کے مہینے میں بھارت کے نریندر مودی نے ہمیں کمزور اور تباہ شدہ قوم سمجھ کر ایک ایسی سفاکانہ غلطی کردی جو آج اس کے گلے کا پھندہ بن چکی ہے۔
پہلگام واقعہ کو دہشت گردی کا بہانہ بنا کر اس نے ہم پر جارحیت کا جو وار کر ڈالا، اس نے خود اس کے منہ پرکالک مل دی۔ دنیا اس کے الزامات پر یقین کرنے کو تیار نہ ہوئی اور حسن اتفاق سے ہماری پاک افواج کی جوابی کارروائی نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا۔ تین روز تک پاکستان صبر سے اس کے حملے برداشت کرتا رہا لیکن پھر ہمارا صبر بھی لبریز ہوگیا اور ہم نے چند لمحوں میں اسے چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا۔ اس کا سارا مواصلاتی نظام منجمد کردیا اور اس کا ریلوے سسٹم بھی معطل کردیا۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں ہم نے اپنی قابلیت اور مہارت کا لوہا منوا کے ساری دنیا کو حیران و ششدر کردیا۔
امریکا ہماری اس مہارت کا نہ صرف معترف ہوگیا بلکہ داد تحسین بھی دینے لگا۔ ہمارے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرکا وہ اتنا فریفتہ اور پرستار ہوگیا کہ ہر تقریب میں وہ ان کے گن گانے لگا۔ جس قوم کو دنیا بھارت کے مقابلے میں ایک انتہائی کمزور قوم سمجھ رہی تھی وہ خلاف توقع اتنی قابل اور باصلاحیت ہو کر اور ابھر کر سامنے آگئی کہ کسی کو یقین بھی نہیں ہو رہا۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کا ہر ملک ہمیں ایک باعزت قوم کے طور پر ہماری تعظیم کرنے پر مجبور ہوچکا ہے۔
ساتھ ہی ساتھ ہمارے موجودہ وزیراعظم کی سفارتی محاذ پرکی جانے والی کامیاب کوششوں نے بھی ہمارا بحیثیت ایک قوم ایک بہت ہی اچھا تاثر اور امیج پیدا کردیا ہے۔ وزیراعظم نے جس دن سے دوسری بار اپنے اس منصب کا حلف اُٹھایا ہے، ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھے ہیں۔ اُن کی سفارتی محاذ پر لڑی جانے والی جنگ نے بھی بھارت کے نریندر مودی کو عبرت ناک شکست دیدی ہے، وہ اب اس قابل بھی نہیں رہا کہ کسی ملک میں جا کر اپنی خفت اور خجالت مٹا سکے۔ اسے اگلے الیکشن میں اپنی شکست کا خوف بھی لاحق ہونے لگا ہے اور اسے سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ کس طرح اپنی قوم کو اپنی ان ناکامیوں کی توجیح پیش کرسکے۔
ہمارے وزیراعظم کا جس طرح سعودی عرب اورامریکا میں استقبال کیا گیا ہے وہ بھی اس کی نیندیں اُڑا دینے کے لیے کافی ہے، وہ جس ٹرمپ کو اپنا خیر خواہ اور دوست سمجھ رہا تھا اسی ٹرمپ نے اب اسے یکسر نظر اندازکردیا ہے بلکہ اس پر پچاس فیصد ٹیرف لگا کر اسے مزید مشکل میں ڈال دیا ہے۔ جو کچھ آج سے پہلے پاکستان کے ساتھ کیا جاتا تھا، آج بھارت کے ساتھ ہو رہا ہے۔ پاکستان اپنی اسلامی شناخت کی وجہ سے ہمیشہ غیر مسلم طاقتوں کے عتاب میں رہا ہے۔ اس پر ہمیشہ کوئی نہ کوئی قدغنیں لگتی رہی ہیں۔کبھی سی ٹی بی ٹی،کبھی FATF اورکبھی دہشت گرد ممالک کی فہرست میں شامل کر کے ہمارا معاشی استحصال کیا جاتا رہا ہے۔
ہمارا نیوکلیئر پروگرام بھی عالمی طاقتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا ہے جب کہ بھارت کو ایسی کسی مشکل کا سامنا نہیں تھا۔ ہمارا سی پیک منصوبہ بھی سب سے زیادہ امریکا کو ناپسند رہا ہے مگر خدا کا شکر ہے کہ آج یہ سب مشکلیں دور ہوچکی ہیں۔ دو سال پہلے ہمارے یہاں کے ایک سیاسی گروہ اور فریق کے مطالبے پر ہم نے بھی روس سے تیل خریدنے کے معاہدے کر لیے لیکن اُن پر عمل درآمد شاید اس لیے نہ ہوسکا کہ اس خام تیل کو ریفائن کرنے میں ہمیں مشکلات درپیش تھیں۔
یہ ہمارے لیے نقصان کے بجائے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا، ورنہ آج ہم بھی بھارت کی طرح ٹیرف کی پابندیوں کا شکار ہو رہے ہوتے۔ روس سے سستا تیل نہ خریدنے پر ہماری اس حکومت کو مخالفوں کی جانب سے تنقید کاسامنا بھی رہا لیکن یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مہربانی رہی کہ ہماری حکومت اس دباؤ میں نہیں آئی، ورنہ آج امریکا کے ساتھ ساتھ سعودی عرب بھی ہم سے ناراض ہوچکا ہوتا۔ سعودی عرب ہمارا ہمیشہ ایک قابل اعتماد دوست رہا ہے ۔ اس نے ہر مشکل وقت میں ہماری مدد کی ہے ۔ ہم اس کی ناراضی کے متحمل ہرگز نہیں ہوسکتے ہیں۔ عمرانی دور میں ایک مہم بھی چلائی گئی کہ ہم سعودی عرب کی دوستی اور مہربانیوں کے بنا ء بھی جی سکتے ہیں۔
یہ سوچ ملک دشمنی کا شاخسانہ ہوسکتی تھی۔ اسی طرح سعودی عرب کو ناراض کرنے کے اس دور میں اور بھی کام کیے گئے اور خان صاحب کی تجویز پر ترکی، ملائیشیا اور پاکستان پر مبنی تین ممالک کی ایک الگ فیڈریشن بنانے کا پلان بنایا گیا جو شو مئی قسمت سے قابل عمل نہ ہوسکا۔ ورنہ آج ہم جس سعودی عرب اور پاکستان کے معاہدے پر سرشار ہورہے ہیں وہ بھی ممکن نہ ہوپاتا۔ خان صاحب کے چار سالہ دور میں ملک کو سفارتی طور پر تنہا اور اکیلا کرنے کی جو کوششیں کی گئی اس نے ہمیں تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کردیا۔
کہنے کو وہ دعوے ہماری خود مختاری اور آزادی کے دلفریب نعروں سے مزین تھے اور قوم کے احساسات کو ہوا دینے کے مترادف بھی تھے لیکن قرضوں میں جکڑی قوم کے لیے وہ نعرے انتہائی مضر ثابت ہوا کرتے ہیں۔ ہمارا تو یہ حال ہے کہ ہمیں اگرکسی غیر ملک کے دورے کے موقعوں پروہاں کے سربراہ کی جانب سے تحفے ملتے ہیںتو ہم انھیں بھی بیچ کھاتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے کتنی شرمساری کی باتیں ہیں کہ تحفہ میں ملنے والی چیزیں کو بھی ہم دبئی جیسے ملک میں فروخت کردیتے ہیں اور وہی چیزیں واپس تحفہ دینے والے کو پہنچ جاتی ہیں۔ کہنے کو یہ چھوٹی چھوٹی سی بدنیتی ہے، لیکن عالمی سطح پر انتہائی رسوائی کا باعث ہیں۔
افسوس کہ بانی پی ٹی آئی نے ایسا کرنے سے پہلے سوچ لیا ہوتا کہ اس غلطی کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ عام زندگی میں بھی ہم کسی کی جانب سے ملنے والے تحفوں کو اس طرح بیچا نہیں کرتے، جب کہ یہ تحفے تو سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر رکھنے کا بھی تقاضہ کرتے ہیں، وہ اگر اُن تحفوں کو استعمال کر لیتے تو شاید کوئی حرج بھی نہ تھا مگر انھیں کسی دوسرے ملک میں بیچ ڈالنا انتہائی چھوٹی سوچ کی غمازی کرتا ہے۔ ایک وزیراعظم کو یہ کسی طرح بھی زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی ایسی حرکت کا متحمل ہوجائے، وہ ان تحفوں کو بھی ورلڈ کپ کی طرح اپنی ذاتی ملکیت تصور کربیٹھے تھے۔
آج خدا خدا کر کے ہم اس دورکی بد نامی سے باہر نکل پائے ہیں۔ آج ہمارے وزیراعظم کا استقبال ریڈ کارپٹ کے بجائے پرپل کارپٹ بچھا کے کیا جارہا ہے ۔ جو عزت و توقیر ہمارے اس وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو مل رہی ہے وہ آج سے پہلے شاید ہی ہمارے کسی اورحکمراں کو ملی ہو۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہو رہا ہے جو حکمرانوں کی نیتوں کو بھی جاننے والا ہے۔ یہ شہباز شریف اور جنرل عاصم منیرکی خلوص نیت کا ثمر ہے کہ ہمارے پاکستان کو آج اتنی عزت و تکریم سے نوازا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارت کے قوم کے رہا ہے بھی ہم
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔