Al Qamar Online:
2026-07-24@05:27:44 GMT

دو ریاستی حل دائمی امن کا واحد راستہ ہے: یورپی کمیشن

اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT

دو ریاستی حل دائمی امن کا واحد راستہ ہے: یورپی کمیشن

لڑائی فوری ختم ہونی چاہیے ساتھ ہی غزہ کے باشندوں کے لیے  انسانی امداد فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور تمام یرغمالیوں کو  رہا کیا جائے۔

عالمی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یورپی کمیشن کی صدر اورسولا فان ڈیئرلائن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس امن منصوبے کا خیرمقدم کیا جس کا مقصد غزہ کی پٹی میں تقریباً دو سال سے جاری جنگ کو ختم کرنا ہے۔

اورسولا فان ڈیئرلائن نے آج منگل کو “ایکس” پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ “دو ریاستی حل اسرائیل اور فلسطینیوں کے لیے منصفانہ اور دائمی امن حاصل کرنے کا واحد عملی راستہ ہے”۔ انھوں نے زور دیا کہ وہ “تمام فریقوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دیتی ہیں”۔ اورسولا کے مطابق یورپی یونین اس حوالے سے اپنا حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔

یورپی کمیشن کی صدر نے کہا کہ “فوری طور پر جنگ بندی ہونی چاہیے اور غزہ کے باشندوں کے لیے فوری انسانی امداد فراہم کی جائے اور تمام یرغمالیوں کو فوراً رہا کیا جائے”۔

گزشتہ روز امریکی صدر نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ نیتن یاہو نے غزہ میں لڑائی روکنے اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے ان کے تجویز کردہ امن منصوبے کو منظور کر لیا ہے۔

اس دوران وائٹ ہاؤس نے اس منصوبے کے 20 نکات شائع کیے، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ “غزہ کی پٹی کو غیر مسلح کیا جائے گا اور اسے ایک انتظامی کمیٹی کے زیر انتظام رکھا جائے گا، جس میں فلسطینی ٹیکنوکریٹس اور بین الاقوامی ماہرین شامل ہوں گے … اور حماس کا اس میں کوئی کردار نہیں ہو گا”۔

یہ کمیٹی ایک نئی بین الاقوامی عبوری اتھارٹی “کمیٹی برائے امن” کے تحت کام کرے گی جس کی قیادت اور سربراہی ٹرمپ کریں گے۔ دیگر ارکان اور عالمی رہنماؤں کے ناموں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا جن میں برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہیں۔ جب تک فلسطینی اتھارٹی اپنا اصلاحی پروگرام مکمل نہیں کرتی، مذکورہ عبوری اتھارٹی غزہ کی تعمیر نو کے لیے فنڈنگ کو منظم کرے گی۔ یہ اتھارٹی محفوظ اور مؤثر طریقے سے غزہ پر دوبارہ کنٹرول قائم کرنے کے قابل ہو گی۔

کئی عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ ساتھ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے بھی ٹرمپ کے منصوبے کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔

دوسری جانب فلسطینی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس منصوبے کا جائزہ لے گی اور اس کا جواب دے گی، تاکہ فلسطینی عوام کے مفاد کو یقینی بنایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: کیا جائے کے لیے کی صدر

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن