Juraat:
2026-06-03@01:42:43 GMT

غزہ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیس نکاتی منصوبہ کیا ہے؟ مکمل متن

اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT

غزہ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیس نکاتی منصوبہ کیا ہے؟ مکمل متن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ  منصوبے کا مکمل متن درج ذیل ہے

1۔ غزہ ایک غیر انتہا پسند، دہشت گردی سے پاک علاقہ ہوگا جو اپنے ہمسایوں کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔

2۔ غزہ کو اس کے عوام کے فائدے کے لیے دوبارہ تعمیر کیا جائے گا، جو پہلے ہی بہت زیادہ تکالیف برداشت کر چکے ہیں۔

3۔ اگر دونوں فریق اس تجویز پر رضامند ہو جائیں تو جنگ فوراً ختم ہو جائے گی، اسرائیلی فوجیں یرغمالیوں کی رہائی کی تیاری کے لیے متفقہ لائن تک  پیچھے ہٹ جائیں گی، اس دوران فضائی اور توپ خانے کی بمباری سمیت تمام عسکری اقدامات معطل کیے جائیں گے، اور جنگی صفیں اس وقت تک منجمد رہیں گی جب تک مکمل مرحلہ وار واپسی کے لیے ضروری شرائط پوری نہ ہو جائیں۔

4۔ اسرائیل کی جانب سے اس معاہدے کو عوامی سطح پر منظور کیے جانے کے 72 گھنٹے کے اندر تمام (قیدی)، چاہے زندہ ہوں یا مردہ، واپس کیے جائیں گے۔

5۔ جیسے ہی تمام (قیدی) رہا کر دیے جائیں گے، اسرائیل عمر قید کے 250 قیدیوں کے علاوہ غزہ کے 1700 ایسے باشندوں کو رہا کرے گا جو 7 اکتوبر 2023 کے بعد حراست میں لیے گئے تھے، جن میں اس سلسلے میں زیرِ حراست تمام خواتین اور بچے شامل ہیں، ہر اسرائیلی یرغمالی کی لاش کے بدلے اسرائیل غزہ کے 15 شہدا کی میتیں حوالے کرے گا۔

6۔ جیسے ہی تمام (قیدی) واپس کر دیے جائیں گے، حماس کے وہ ارکان جو پرامن بقائے باہمی اور اپنے ہتھیار غیر فعال کرنے کے عہد پر قائم ہوں گے، انہیں عام معافی دی جائے گی، حماس کے وہ ارکان جو غزہ چھوڑنا چاہتے ہیں، انہیں وصول کرنے والے ممالک تک محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔

7۔ اس معاہدے کی منظوری کے فوراً بعد غزہ کی پٹی میں مکمل امداد بھیج دی جائے گی، کم از کم امداد کی مقدار وہی ہوگی جو 19 جنوری 2025 کے معاہدے میں انسانی ہمدردی کی امداد کے حوالے سے طے کی گئی تھی، جس میں بنیادی ڈھانچے (پانی، بجلی، نکاسی آب) کی بحالی، ہسپتالوں اور بیکریوں کی بحالی، اور ملبہ ہٹانے اور سڑکیں کھولنے کے لیے ضروری سامان کی فراہمی شامل ہے۔

8۔ غزہ کی پٹی میں امداد اور اس کی تقسیم کا عمل اقوام متحدہ اور اس کے اداروں، ہلالِ احمر اور کسی بھی فریق سے غیر وابستہ دیگر بین الاقوامی اداروں کے ذریعے بلا مداخلت جاری رہے گا، رفح کراسنگ کو دونوں اطراف سے اسی طرح کھولا جائے گا جیسا 19 جنوری 2025 کے معاہدے میں نافذ کیا گیا تھا۔

9۔ غزہ کا انتظام ایک عارضی عبوری نظامِ حکومت کے تحت ہوگا جو تکنیکی ماہرین پر مشتمل غیر سیاسی فلسطینی کمیٹی کے ذریعے چلایا جائے گا، یہ کمیٹی غزہ کے عوام کے لیے عوامی خدمات اور بلدیاتی امور کی روزمرہ نگرانی اور انجام دہی کی ذمہ دار ہوگی۔

یہ کمیٹی ماہر فلسطینیوں اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ہوگی، جس کی نگرانی اور دیکھ بھال ایک نئے بین الاقوامی عبوری ادارے ’بورڈ آف پیس‘ کے ذریعے کی جائے گی، جس کی قیادت اور صدارت صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کریں گے، دیگر اراکین اور سربراہانِ مملکت کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، جن میں سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہوں گے۔

یہ ادارہ غزہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے فریم ورک تشکیل دے گا اور فنڈنگ کا انتظام کرے گا، یہاں تک کہ فلسطینی اتھارٹی اپنی اصلاحاتی منصوبہ بندی مکمل کر لے، (جیسا کہ مختلف تجاویز میں بیان کیا گیا ہے، جن میں صدر ٹرمپ کا 2020 کا امن منصوبہ اور سعودی۔فرانسیسی تجویز شامل ہیں) اور اس قابل ہو جائے کہ وہ غزہ کا مؤثر اور محفوظ طریقے سے کنٹرول دوبارہ سنبھال سکے، یہ ادارہ بہترین بین الاقوامی معیارات کی بنیاد پر جدید اور مؤثر طرزِ حکمرانی قائم کرنے کی کوشش کرے گا جو غزہ کے عوام کی خدمت کرے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔

10۔ غزہ کی تعمیرِ نو اور اسے ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ٹرمپ کا اقتصادی ترقیاتی منصوبہ تشکیل دیا جائے گا، جس کے لیے ایسے ماہرین پر مشتمل ایک پینل قائم کیا جائے گا جنہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں جدید اور خوشحال معجزاتی شہروں کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا ہے، کئی بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے سوچے سمجھے سرمایہ کاری کے منصوبے اور پرجوش ترقیاتی تجاویز تیار کی گئی ہیں، جنہیں زیرِ غور لایا جائے گا تاکہ سیکیورٹی اور حکمرانی کے ڈھانچوں کو یکجا کر کے ایسی سرمایہ کاری کو راغب اور آسان بنایا جا سکے جو غزہ کے مستقبل کے لیے روزگار، مواقع اور امید فراہم کرے گی۔

11۔ ایک خصوصی اقتصادی زون قائم کیا جائے گا، جس کے لیے ترجیحی ٹیرف اور رسائی کی شرحیں شریک ممالک کے ساتھ طے کی جائیں گی۔

12۔ کسی کو بھی غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور جو لوگ جانا چاہیں گے وہ آزاد ہوں گے کہ جا سکیں اور واپس بھی آسکیں، ہم لوگوں کو یہاں رہنے کی ترغیب دیں گے اور انہیں ایک بہتر غزہ تعمیر کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔

13۔ حماس اور دیگر دھڑے اس بات پر متفق ہیں کہ وہ غزہ کی حکمرانی میں براہِ راست، بالواسطہ یا کسی بھی شکل میں کوئی کردار نہیں رکھیں گی، تمام فوجی، دہشت گردی سے متعلق اور جارحانہ انفرااسٹرکچر، بشمول سرنگیں اور اسلحہ بنانے کی فیکٹریاں، تباہ کی جائیں گی اور دوبارہ تعمیر نہیں کی جائیں گی۔

غزہ کو غیر عسکری بنانے کا ایک عمل آزاد نگرانوں کی نگرانی میں انجام دیا جائے گا، جس میں اسلحہ کو ایک طے شدہ غیر فعال کرنے کے طریقہ کار کے تحت مستقل طور پر ناقابلِ استعمال بنایا جائے گا، اور اسے ایک بین الاقوامی مالی معاونت یافتہ باز خریداری (buy-back) اور دوبارہ شمولیت کے پروگرام سے سہارا دیا جائے گا، آزاد نگران تمام مراحل کی توثیق کریں گے، نیا غزہ ایک خوشحال معیشت کی تعمیر اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کے لیے پوری طرح پرعزم ہوگا۔

14۔ علاقائی شراکت داروں کی جانب سے ایک ضمانت فراہم کی جائے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ حماس اور دیگر دھڑے اپنی ذمہ داریوں کی پابندی کریں اور نیا غزہ اپنے ہمسایوں یا اپنے لوگوں کے لیے کوئی خطرہ نہ ہو۔

15۔ امریکا، عرب اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک عارضی بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) تیار کرے گا جو فوری طور پر غزہ میں تعینات کی جائے گی، آئی ایس ایف غزہ میں جانچ پڑتال شدہ فلسطینی پولیس فورسز کو تربیت اور معاونت فراہم کرے گی، اور اس سلسلے میں وسیع تجربہ رکھنے والے اردن اور مصر سے مشاورت کرے گی۔

یہ فورس طویل المدتی داخلی سلامتی کا حل ہوگی، آئی ایس ایف اسرائیل اور مصر کے ساتھ مل کر نئے تربیت یافتہ فلسطینی پولیس اہلکاروں کے ساتھ سرحدی علاقوں کو محفوظ بنانے میں مدد کرے گی، یہ نہایت ضروری ہے کہ غزہ میں اسلحہ داخل ہونے سے روکا جائے اور تعمیرِ نو و بحالی کے لیے سامان کی تیز اور محفوظ ترسیل کو ممکن بنایا جائے، فریقین کے درمیان ایک ٹکراؤ سے بچاؤ کا طریقہ کار طے کیا جائے گا۔

16۔ اسرائیل غزہ پر قبضہ یا الحاق نہیں کرے گا، جب آئی ایس ایف کنٹرول اور استحکام قائم کرے گا تو اسرائیلی فوج ایسے معیارات، سنگ میل اور وقتی حدود کی بنیاد پر پیچھے ہٹے گی جو اسرائیلی فوج، آئی ایس ایف، ضامنوں اور امریکا کے درمیان طے کیے جائیں گے، مقصد یہ ہوگا کہ ایک محفوظ غزہ قائم کیا جائے جو اسرائیل، مصر یا اس کے شہریوں کے لیے خطرہ نہ رہے۔

اسرائیلی فوج عبوری اتھارٹی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت عملی طور پر غزہ کے مقبوضہ علاقے کو بتدریج آئی ایس ایف کے حوالے کرے گی، یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر غزہ سے واپس نہ ہو جائیں، تاہم ایک سیکیورٹی حصار کے طور پر موجودگی برقرار رہے گی جب تک کہ غزہ کسی دوبارہ سر اُٹھانے والے دہشت گردی کے خطرے سے مکمل طور پر محفوظ نہ ہو جائے۔

17۔ اگر حماس اس تجویز میں تاخیر کرے یا اسے رد کر دے تو اوپر بیان کردہ اقدامات، بشمول بڑھائی گئی امدادی کارروائی، ان دہشت گردی سے پاک علاقوں میں جاری رکھے جائیں گے جو اسرائیلی فوج نے آئی ایس ایف کے حوالے کیے ہوں گے۔

18۔ ایک بین المذاہب مکالمے کا عمل قائم کیا جائے گا جو رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کی اقدار پر مبنی ہوگا، تاکہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی ذہنیت اور بیانیے کو بدلنے کی کوشش کی جا سکے اور امن سے حاصل ہونے والے فوائد کو اجاگر کیا جا سکے۔

19۔ جب غزہ کی تعمیرِ نو آگے بڑھے گی اور فلسطینی اتھارٹی کا اصلاحاتی پروگرام دیانت داری سے نافذ کیا جائے گا، تو ممکن ہے کہ ایسے حالات آخرکار میسر آجائیں جو فلسطینی عوام کی خواہشات کے مطابق ان کی خود ارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے ایک معتبر راستہ فراہم کریں، جسے ہم فلسطینی عوام کی آرزو کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔

20۔ امریکا اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ایک مکالمہ عمل شروع کرے گا تاکہ پُرامن اور خوشحال بقائے باہمی کے لیے ایک سیاسی افق پر اتفاق ہو سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: قائم کیا جائے بین الاقوامی اسرائیلی فوج بقائے باہمی کیا جائے گا آئی ایس ایف کی جانب سے جائیں گے بنایا جا جائیں گی کے ساتھ جائے گی کرے گی جا سکے کے لیے اور اس غزہ کی ہوں گے کرے گا غزہ کے

پڑھیں:

گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف

ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام