قومی کھلاڑیوں کے غیر ملکی لیگز کھیلنے کے این او سی معطل
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
لیگز کیلئے این او سی چاہیے تو کارکردگی دکھائیں،پی سی بی کا کرکٹرز سے دو ٹوک مطالبہ
بابراعظم، شاہین آفریدی، محمد رضوان اور فہیم اشرف متاثر ہوں گے، نوٹیفکیشن جاری
قومی کھلاڑیوں کے غیر ملکی لیگز کھیلنے کے این او سی معطل کردیے گئے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی کرکٹرز کو غیر ملکی لیگز کے لیے این او سی کا اجرا کارکردگی سے مشروط کردیا۔ذرائع کے مطابق پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سمیر احمد کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی لیگز اور بیرون ملک ٹورنامنٹس کے لیے کھلاڑیوں کو جاری تمام این او سی تاحکم ثانی معطل کر دیٔے گئے ہیں۔این او سی معطلی کا فیصلہ بھارت سے ایشیا کپ کے فائنل میں شکست کے بعد کیا گیا۔فیصلے سے بابراعظم، شاہین آفریدی، محمد رضوان اور فہیم اشرف متاثر ہوں گے۔پی سی بی نے ان کھلاڑیوں کو آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ میں شرکت کے لیے این او سی جاری کیے تھے۔بگ بیش لیگ کا آغاز 14 دسمبر سے ہوگا جو 25 جنوری تک جاری رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: غیر ملکی لیگز پی سی بی
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔