سکیورٹی فورسز کی کارروائی، خواتین کا لباس پہن کر فرار ہونیوالے 4 دہشتگرد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع خضدار میں کارروائی فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی، جس کے دوران خواتین کا لباس پہن کر فرار ہونے کی کوشش کرنے والے 4 دہشت گرد گرفتار کر لیے گئے۔ گرفتار کئے جانے والے دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 4 دہشت گرد گرفتار کر لئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی، جس کے دوران خواتین کا لباس پہن کر فرار ہونے کی کوشش کرنے والے 4 دہشت گرد گرفتار کر لیے گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق گرفتار کئے جانے والے دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں سرگرم رہے تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کیلئے سینی ٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سکیورٹی فورسز بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق قوم کی غیر متزلزل حمایت سے دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گرد گرفتار کے مطابق
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔