دانش تیمور نے بولڈ سین میں سب حدیں پار کردیں، سوشل میڈیا پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
پاکستان شوبز انڈسٹری کے ہر دلعزیز اداکار دانش تیمور ایک بار پھر سوشل میڈیا کی سخت تنقید کی زد میں ہیں۔ اس بار وجہ بنی ہے ان کے ایک پرانے ڈرامے کا بولڈ سین، جس کا کلپ اچانک وائرل ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مداحوں اور ناقدین کی زبانوں پر دانش تیمور کا چرچا ہونے لگا۔دانش تیمور گزشتہ کئی برسوں سے ہٹ ڈراموں کا حصہ رہے ہیں اور جارحانہ کرداروں نے انہیں ایک منفرد پہچان دی ہے۔ مداح انہیں عموماً سخت اور غصے والے کرداروں میں دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں، لیکن اب سامنے آنے والے اس پرانے کلپ نے سب کو حیران کر دیا۔ سوشل میڈیا صارفین کہنے لگے کہ ’’یہی وہ دانش تیمور ہیں جنہیں ہم ہیرو کے روپ میں دیکھتے آئے ہیں؟دلچسپ بات یہ ہے کہ دانش تیمور کو پہلے بھی ڈرامہ سیریل ’من مست ملنگ‘ میں بولڈ سین کرنے پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن اس بار معاملہ اور بھی پرانا نکلا۔ وائرل ہونے والے کلپ کے مطابق یہ سین غالباً 2008ء کے ڈرامے کا ہے، جس میں دانش تیمور اور اداکارہ جیا علی کو بولڈ کرداروں میں دکھایا گیا ہے۔ویڈیو دیکھنے کے بعد کئی سوشل میڈیا صارفین شاک میں چلے گئے۔ کچھ نے سوال اٹھایا کہ آخر ایسے مناظر پاکستانی ٹی وی چینل پر کیسے نشر کیے گئے؟ جبکہ کچھ لوگوں نے طنزاً کہا کہ ’’اداکاری کی شروعات میں ہی دانش تیمور نے ’بولڈ قدم‘ اٹھا لیا تھا۔‘‘یاد رہے کہ دانش تیمور کے بارے میں یہ بحث بھی عرصہ دراز سے چل رہی ہے کہ انہیں بار بار ایک ہی طرح کے کرداروں میں کاسٹ کیا جاتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر دانش کو مختلف اور منفرد کردار ملیں تو ان کی اصل اداکاری کی صلاحیتیں سامنے آسکیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا دانش تیمور
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔