کراچی میں چوری کی واردات، معروف کامیڈین کی گاڑی گھر کے باہر سے چوری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
معروف مزاحیہ فنکار ولی شیخ کی گاڑی ان کے گھر کے باہر سے چوری ہو گئی۔ کامیڈین نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عوام اور حکام سے مدد کی اپیل کی ہے۔
ولی شیخ نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ وہ کراچی کے علاقے ملیر میں رہائش پذیر ہیں اور ان کی سفید رنگ کی ویگن آر گاڑی معین آباد میں ان کے گھر کے سامنے سے صبح 4 سے 5 بجے کے درمیان نامعلوم افراد چوری کرکے لے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں چوری شدہ گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں کہاں فروخت ہوتی ہیں؟
کامیڈین کے مطابق، گاڑی چوری ہونے کے فوراً بعد انہوں نے پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کیا، تاہم کوئی مؤثر جواب موصول نہیں ہوا۔ بعد ازاں وہ ماڈل کالونی تھانے پہنچے، جہاں پولیس نے ان کی شکایت پر مناسب ردعمل دیا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ولی شیخ کا کہنا تھا کہ وہ ایک محنت کش فنکار ہیں اور بڑی مشکل سے یہ گاڑی خریدی تھی۔ انہوں نے سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ چوری شدہ گاڑی کو بازیاب کروا کر انہیں واپس کی جائے اور جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
اپنے مداحوں سے اپیل کرتے ہوئے ولی شیخ نے کہا کہ وہ ان کے ویڈیو پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ان کی آواز حکام بالا تک پہنچ سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کامیڈین کامیڈین گاڑی چوری کراچی گاڑی چوی ولی شیخ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کامیڈین کراچی ولی شیخ ولی شیخ
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔