پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین کیلئے سوشل میڈیا استعمال کیلئے اصول جاری کر دیئے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ فیس بک، ٹوئٹر، واٹس ایپ، انسٹا گرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت تمام پلیٹ فارمز پر احتیاط لازم ہے، ایسا مواد جس سے قومی سلامتی، امن عامہ یا اخلاقیات متاثر ہوں، سختی سے منع ہے۔ حکومت یا عدالت کی توہین، غیر قانونی افعال یا فرقہ واریت پھیلانے والا مواد ناقابل برداشت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین کیلئے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق نئے اصول جاری کر دیئے ہیں۔ اس بارے میں ایس اینڈ جی اے ڈی کی جانب سے سرکاری ملازمین کو مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں سول سرونٹس کو سوشل میڈیا پر بیانات، رائے یا معلومات شیئر کرنے کیلئے محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مراسلے کے مطابق بغیر منظوری کے حکومتی پالیسی پر اظہار رائے یا ذاتی آراء دینا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ افسران کا عمل عوامی تاثر پر اثر انداز ہوتا ہے، انہیں محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ فیس بک، ٹوئٹر، واٹس ایپ، انسٹا گرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت تمام پلیٹ فارمز پر احتیاط لازم ہے، ایسا مواد جس سے قومی سلامتی، امن عامہ یا اخلاقیات متاثر ہوں، سختی سے منع ہے۔ حکومت یا عدالت کی توہین، غیر قانونی افعال یا فرقہ واریت پھیلانے والا مواد ناقابل برداشت ہے، ذاتی شہرت یا سوشل میڈیا پر خود نمائی سختی سے ممنوع قرار دی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر اعلیٰ اخلاقی معیار، دیانت اور ذمہ داری لازم قرار دی گئی ہے، ہدایات پر عمل نہ کرنیوالے افسران کیخلاف سخت انضباطی کارروائی ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا گئی ہے گیا ہے
پڑھیں:
میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
جنوبی کوریا(southkorea) میں ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف میٹھے پکوانوں کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔
ریسٹورنٹ مالک نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سوئٹ ڈشز کی ٹاپنگ کے لیے محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں، اس حوالے سے گاہکوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا تھا۔
مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں، خصوصاً میٹھے ڈشز، میں استعمال کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے موجودہ قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کی اجازت حاصل ہے، اسی بنیاد پر ریسٹورنٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ریسٹورنٹ مالک کو سزا دی جاتی ہے یا نہیں۔