سلامتی کونسل غزہ میں جاری خونریزی روکنے میں ایک بار پھر ناکام رہی، پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
سلامتی کونسل غزہ میں جاری خونریزی روکنے میں ایک بار پھر ناکام رہی، پاکستان WhatsAppFacebookTwitter 0 2 October, 2025 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )پاکستانی سفیر عاصم افتخار نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل غزہ میں جاری خونریزی روکنے میں ایک بار پھر ناکام رہی ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ویٹو (Veto) مباحثہ (فلسطینی مسئلہ) کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اپنے آپ کو اس بیان کے ساتھ منسلک کرتے ہیں جو ڈنمارک کے مستقل نمائندے نے سلامتی کونسل کے 10 منتخب ارکان، بشمول پاکستان کی جانب سے پیش کیا۔ ا ن ارکان نے اس مسود قرار داد کو مشترکہ طور پر پیش کیا تھا جسے ویٹو (Veto) کر دیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ ہم آج یہاں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم ڈنمارک کے کردار کی دل سے قدر کرتے ہیں جس نے ای-10 کی ہم آہنگی میں قائدانہ کردار ادا کیا۔پاکستانی سفیر نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم ایسے وقت پر جمع ہوئے ہیں جب گہری تشویش اور کرب کی کیفیت ہے۔ سلامتی کونسل، جسے امن کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داری سونپی گئی ہے، ایک بار پھر اس وقت عمل کرنے میں ناکام رہی جب غزہ کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔
عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ ایک قرار داد، جس کا مقصد خونریزی کو روکنا اور انسانی امداد پہنچانا تھا، کو روک دیا گیا اور یوں لاکھوں انسان غیر انسانی حالت میں تنہا چھوڑ دیے گئے۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے منتخب 10 اراکین کے لیے یہ محض معمول کی سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ ایک فوری کوشش تھی ایک ایسی قوم کی پکار کا جواب دینے کی جو بمباری، ملبے، قحط اور ناامیدی میں پھنس چکی ہے۔ اس حوالے سے پیش رفت میں ناکامی انتہائی مایوس کن تھی، لیکن ایک ایوان میں جمود کا مطلب یہ نہیں کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کے تمام ادارے بھی مفلوج ہو جائیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ حقیقت نہایت کڑوی ہے۔ غزہ کو چن چن کر تباہ کر دیا گیا ہے۔ خاندان ٹوٹے ہوئے کنکریٹ کے ڈھانچوں تلے سہمے بیٹھے ہیں اور ان بچوں کو ڈھونڈ رہے ہیں جو کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ وہاں بھوک ہر گلی میں منڈلا رہی ہے۔ قحط پہلے ہی غزہ شہر کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور اب خان یونس اور دیر البلح کو نگلنے کی دھمکی دے رہا ہے۔
سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ 66 ہزار سے زائد فلسطینی ، جن کی بھاری اکثریت عورتیں اور بچے ہیں شہید ہو چکے ہیں۔ گھر، اسکول اور اسپتال دانستہ طور پر مٹا دیے گئے ہیں۔ یہ جنگ نہیں ہے، یہ ایک قوم کے مستقبل کو مٹا دینے کا عمل ہے۔ قابض طاقت اسرائیل کو اس پر مکمل طور پر جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کا دکھ بجا طور پر اس سال کی جنرل ڈیبیٹ کا مرکزی موضوع رہا ہے۔ اس تباہی کے درمیان، ضمیر کی آوازیں مزید بلند ہوئیں، دو ریاستی حل کانفرنس کا انعقاد، مزید ممالک کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنا اور دنیا بھر سے جنگ بندی اور فلسطینی مسئلے کے پائیدار حل کے بڑھتے ہوئے مطالبات نے اس گھٹا ٹوپ اندھیروں میں امید کی کرنیں فراہم کیں۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی عرب اور او آئی سی رہنماں کے ساتھ حالیہ مشاورت اور امریکا کی جانب سے ایک منصوبے کا اعلان، قابلِ ذکر پیش رفت ہے جس کا دنیا بھر میں خیر مقدم کیا گیا ہے۔ ہمیں محتاط لیکن مخلصانہ امید ہے کہ ایسے اقدامات وہ سب کچھ فراہم کر سکیں گے جس کی فوری ضرورت ہے، مثلا فوری جنگ بندی، جنگ کا خاتمہ، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور سب سے بڑھ کر فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک معتبر سیاسی افق۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ان مشاورتوں کا حصہ ہونے کے ناتے یہ یقینی بنانے کے لیے کام کرے گا کہ کوششوں کو وعدوں سے نہیں بلکہ نتائج سے پرکھا جائے۔ قتل و غارت کو روکنا، قبضے کا خاتمہ، خاندانوں کو دوبارہ ملانا، غزہ کی تعمیر نو اور فلسطینی عوام کو تحفظ اور عزتِ نفس کی ضمانت دینا ترجیحات میں شامل ہے۔
سفیر عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں میں یہ نشاندہی کرنا چاہوں گا کہ ایک مشترکہ اعلامیے میں اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی، سعودی عرب، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے صدر ٹرمپ کی کوششوں کا خیر مقدم کیا، جن میں ان کا یہ اعلان بھی شامل ہے کہ وہ مغربی کنارے کے انضمام کی اجازت نہیں دیں گے۔
اس سلسلے میں اعلامیے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ وہ امریکا کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع معاہدے پر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ایسا معاہدہ جو انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور وافر ترسیل کو یقینی بنائے، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو روکے، یرغمالیوں کی رہائی کو ممکن بنائے، اسرائیلی انخلا کو مکمل طور پر یقینی بنائے، غزہ کی تعمیر نو کرے اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر ایک منصفانہ امن کی راہ ہموار کرے، جس کے تحت غزہ کو مکمل طور پر مغربی کنارے کے ساتھ ایک فلسطینی ریاست میں بین الاقوامی قانون کے مطابق ضم کیا جائے۔ یہی خطے میں پائیدار استحکام اور سلامتی حاصل کرنے کی کلید ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاالقیوم نے عہدے سے استعفی دے دیا ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاالقیوم نے عہدے سے استعفی دے دیا وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحتی امور سردار یاسر الیاس خان کی چیئر مین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم ہیڈز آف سٹیٹ اجلاس کی تیاریاں،اسلام آباد کو دلہن کی طرح سجانے کی منصوبہ بندی ویمنز ورلڈ کپ: پاکستان کی ٹیم بنگلادیش کیخلاف 129 رنز پر ڈھیر طریل ترین غیر ملکی دورے کے بعد وزیراعظم پاکستان شہباز شریف لندن سے وطن واپسی کیلئے روانہ جنگ نہیں ترقی کا سوچنا ہوگا، پورا مشرق چین کیساتھ مل کرکام کرے گا، صدر زرداریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل ایک بار پھر ناکام رہی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔