انڈسٹری میں بہت سے مرد حضرات نے حد سے تجاوز کرنے کی کوشش کی: عائشہ عمر کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ اور پروڈیوسر عائشہ عمر نے انکشاف کیا کہ کم عمری میں شوبز انڈسٹری میں قدم رکھنے کے بعد بہت سے لوگ اپنی حد سے تجاوز کرنے کی کوشش کرتے تھے۔حال ہی میں اداکارہ اور پروڈیوسر عائشہ عمر ایک کامیڈی شو کی مہمان بنیں جہاں انہوں نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں کی مشکلات پر کھل کر بات کی۔اداکارہ نے بتایا کہ کم عمری میں شوبز کی دنیا میں قدم رکھتے ہوئے انہیں متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ایک چیلنجنگ دور تھا۔انہوں نے بتایا کہ اکثر لوگ انہیں سنجیدگی سے نہیں لیتے تھے کیونکہ ایک تو انکی عمر کم تھی، دوسرا یہ کہ وہ بے حد کھلنڈری سی لڑکی کے طور پر نظر آتی تھیں۔عائشہ عمر کا کہناتھا کہ بہت سارے مرد حضرات حدیں کراس کرنے کی کوشش کرتے تھے اور اس دوران مجھے خود کو مضبوط ظاہر کرنا پڑتا تھا تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں کمزور ہوں۔ اسی لیے میں نے ایک نان سینس رویہ اپنا لیا تاکہ لوگ مجھے سنجیدگی سے لیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ جب وہ لاہور سے کراچی منتقل ہوئیں اور اکیلے زندگی گزارنے لگیں تو یہ طرز عمل اور بھی ضروری ہوگیا کیونکہ اکیلی لڑکی کو اکثر کمزور سمجھا جاتا ہے، اس لیے مجھے اور زیادہ سخت رویہ اپنانا پڑا۔عائشہ عمر نے شو میں گفتگو کے دوران کیریئر میں ہونے والی چند غلطیوں کا بھی اعتراف کیا۔ اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے ماضی میں کچھ ایسے ایوارڈ شوز کیے جن کی مکمل ادائیگی آج تک نہیں ہو سکی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔