WE News:
2026-06-02@23:01:04 GMT

نئی پالیسی کے تحت امپورٹڈ گاڑیوں کی قیمتیں کیا ہوں گی؟

اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT

نئی پالیسی کے تحت امپورٹڈ گاڑیوں کی قیمتیں کیا ہوں گی؟

حکومتِ پاکستان نے نئی پالیسی کے تحت کمرشل بنیادوں پر پانچ سال تک پرانی یا استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دے دی ہے۔ ابتدائی طور پر صرف وہ گاڑیاں درآمد کی جا سکیں گی جو 30 جون 2026 تک 5 سال سے زیادہ پرانی نہ ہوں۔ اس تاریخ کے بعد گاڑیوں کی عمر کی حد ختم کر دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:2024: وہ مشہور گاڑیاں جن کی جگہ الیکٹرک کاریں لیں گی؟

اس پالیسی کے مطابق گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر موجودہ کسٹمز ڈیوٹی کے ساتھ 40 فیصد اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، جو ہر سال 10 فیصد پوائنٹس کم ہوگی اور مالی سال 2029-30 تک مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔

زرمبادلہ پر دباؤ بڑھے گا،ماہرین کے خدشات

آٹو انڈسٹری کے ماہر مشہود علی خان کے مطابق حکومت ایک ارب ڈالر کے لیے بھٹک رہی ہے اور اگر صرف ایک ہزار گاڑیاں 7 ہزار ڈالر فی کس کے حساب سے درآمد کی جائیں تو سالانہ ایک ارب ڈالر ملک سے باہر چلا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ گاڑی کی مینٹیننس پر بھی بھاری اخراجات آتے ہیں۔ ان کے حساب سے اگر 25 فیصد مینٹیننس کے اخراجات لگائے جائیں تو یہ سالانہ مزید ایک ارب ڈالر کا بوجھ ڈال سکتے ہیں۔

صارفین کے لیے آپشنز اور قیمتوں کا فرق

مشہود علی خان کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 15 کمپنیاں گاڑیاں فراہم کر رہی ہیں اور 45 مختلف ماڈلز دستیاب ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ امپورٹڈ گاڑیاں قابلِ خرید ہوں گی یا نہیں؟

انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں امپورٹڈ گاڑیوں کی قیمتیں 30 لاکھ سے 2 کروڑ روپے تک ہیں، جو صرف ایک مخصوص طبقے کے لیے قابلِ رسائی ہیں۔ متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے شہری تو آج بھی موٹر سائیکل پر انحصار کر رہے ہیں۔

ٹیکسوں اور پارٹس کی کمی کا مسئلہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑی خریدنے پر تقریباً 45 فیصد ٹیکس حکومت کو دینا پڑتا ہے، جس سے قیمتیں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ ساتھ ہی استعمال شدہ گاڑیوں کے پارٹس کی دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تین سال پرانی امپورٹڈ گاڑیوں کے پرزے تک مارکیٹ میں باآسانی نہیں ملتے، جبکہ لوکل اسمبلرز کے پارٹس موجود ہوتے ہیں۔

مقامی انڈسٹری یا درآمدات؟

مشہود علی خان نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ ہم نے مقامی انڈسٹری کو فروغ دے کر قرض اتارنا ہے یا امپورٹ بڑھا کر مزید قرض لینا ہے۔ ان کے مطابق یہ پالیسی زیادہ دیر چلتی نظر نہیں آتی اور ایک سال میں ہی ناکام ہو سکتی ہے۔

موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کا احتجاج

آل پاکستان موٹرز ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین حاجی محمد شہزاد نے اس پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ گاڑیاں مزید مہنگی ہو جائیں گی، آئی ایم ایف نے کہا تھا ٹیکس کم کریں مگر حکومت الٹا زیادہ ٹیکس اور شرائط لگا رہی ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس پالیسی کا اصل فائدہ لوکل اسمبلرز کو ہوگا اور غالب امکان ہے کہ استعمال شدہ گاڑیاں بھی وہی باہر سے منگوائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آل پاکستان موٹرز ڈیلرز ایسوسی ایشن امپورٹڈ گاڑیاں حاجی محمد شہزاد زرمبادلہ لوکل اسمبلرز مشہود علی خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: زرمبادلہ لوکل اسمبلرز مشہود علی خان مشہود علی خان گاڑیوں کی کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم