نائٹ شفٹ ڈیوٹی گردوں میں پتھری کے خطرات کو کس طرح بڑھا دیتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا بھر میں لاکھوں افراد نائٹ شفٹ ڈیوٹی کرتے ہیں، لیکن ایک تازہ تحقیقی مطالعہ نے یہ انکشاف کیا ہے کہ رات کی شفٹ میں مسلسل کام کرنا گردوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
جریدے Mayo Clinic Proceedings میں شائع ہونے والی اس جامع تحقیق میں 2 لاکھ 20 ہزار سے زیادہ افراد کو تقریباً 14 سال تک فالو اپ کیا گیا اور حیران کن نتائج سامنے آئے۔
مطالعے کے مطابق وہ افراد جو دن کے بجائے رات کی شفٹ میں کام کرتے ہیں، ان میں گردوں کی پتھری بننے کا خطرہ تقریباً 15 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مستقل طور پر یا زیادہ تر نائٹ شفٹ میں ڈیوٹی دیتا ہے تو اس میں یہ خطرہ 22 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صرف نائٹ شفٹ کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی طرزِ زندگی اور جسمانی عوامل اس خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔
انسانی جسم کی قدرتی گھڑی یعنی “سرکیڈین ردم” رات اور دن کے معمولات کے مطابق کام کرتی ہے۔ جب یہ نظام متاثر ہوتا ہے تو گردوں کے کام کرنے کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے۔ رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد اکثر پانی کم پیتے ہیں، جس سے جسم میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے اور پیشاب گاڑھا ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں معدنیات جمع ہوکر گردوں میں پتھری کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
مزید یہ کہ نائٹ شفٹ کرنے والے اکثر نیند کی کمی، بے ترتیبی، زیادہ وزن، ناقص غذا اور سگریٹ نوشی جیسے مسائل کا شکار بھی ہوتے ہیں۔ یہ تمام عوامل گردوں پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں اور پتھری کے خطرات بڑھا دیتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ جسمانی سرگرمی کی کمی اور نمکین غذا کا زیادہ استعمال اس خطرے کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نائٹ شفٹ میں کام کرنے والوں کو خاص طور پر اپنے پانی پینے کے معمولات پر توجہ دینی چاہیے، متوازن غذا اختیار کرنی چاہیے اور جسمانی سرگرمی بڑھانی چاہیے تاکہ گردوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ ساتھ ہی نیند کا خاص اہتمام بھی ضروری ہے، کیونکہ نیند کی کمی جسم کے ہارمونی نظام کو متاثر کر کے نمکیات اور پانی کے توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔
یہ تحقیق ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے لاتی ہے کہ نائٹ شفٹ ڈیوٹی صرف جسمانی تھکن یا نیند کی کمی کا مسئلہ نہیں بلکہ گردوں سمیت دیگر کئی اعضا کے لیے بھی طویل المدتی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نائٹ شفٹ شفٹ میں کی کمی
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔